ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 198
ور عدت میں فوت ہوا ہو یا بعد میں اور اس نے دوسری جگہ شادی کی ہویا نہ کی ہو۔یہ امام مالک اور لیث کا مذہب ہے۔وجد اختلاف بعض فقہاء نے جو یہ کہا ہے کہ مریض کی مطلقہ وارث ہوتی ہے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ وارث نہیں ہوتی اس اخترات کی وجہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک مریض کی ذات پر یہ انتہام عائد ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ طلاق بیوی کو میراث سے محروم کرنے کے لئے وہی ہے اس لئے بعض کے نزدیک وہ طلاق کے با وجو د خاوند کی وارث ہوگی۔بعض نزدیک چونکہ طلاق کے ساتھ طلاق کا حکم بھی نافذ ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ وارث نہیں ہوگی۔ان فقہار کی دلیل یہ ہے کہ اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو اس کے جمیع احکام بھی لازم آنے چاہیئے جس طرح طلاق کے بعد خاوند اپنی مطلقہ بیوی کا وارث نہیں ہوتا اسی طرح بیوی بھی خاوند کی وارث نہ ہونی چاہئیے۔لیکن اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو ان کی زوجیت جملہ احکام کے ساتھ باقی رہنی چاہیئے۔کیونکہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ شریعت میں کوئی ایسی طلاق بھی ہے جس پر بعض احکام طلاق کے نافذ ہوتے ہیں اور بعض احکام زوجیت کے۔نیز یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ یہ طلاق خاوند کی صحت تک ملتوی رہے گی یعنی اگر خاوند صحت یاب ہو جائے گا تو نافذ ہوگی ورنہ نہیں۔بہر حال اس طلاق کے متعلق حتمی طور پر یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ یہ طلاق نافذ ہوگی یا نہیں۔اگر نافذ ہوگی تو اپنے جملہ احکام کے ساتھ نافذ ہوگی۔اور اگر نافذ نہ ہوگی تو زوجیت کے جملہ احکام قائم ہونگے۔اس گروہ میں سے بعض فقہاء نے اپنے اس مذہب کی تائیکہ میں یہ کہا ہے کہ حضرت عثمان اور حضرت عمرہ کا بھی یہی مذہب تھا کہ مریض کی مطلقہ وارث نہیں ہوتی اور اصحاب مالک نے یہاں تک کہدیا کہ اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کیونکہ اس بارہ میں حضرت ابن زبیر کا اختلاف مشہور ہے کہ وہ اس بات