ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 197 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 197

194 مسئلہ میں صحابہ میں سے حضرت عثمان کی مخالفت کسی نے نہیں کی۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کل طلاقٍ جَائِزَ الَّا طَلَاقُ الْمَعْتُومِ یہ قول مدہوش کی طلاق پر اثر انداز نہیں ہوتا اور یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مدہوش بھی ایک لحاظ سے معتوہ " یعنی احمق کا حکم ہی رکھتا ہے۔یہی قول داؤد ابو ثور - اسحاق اور تابعین کی ایک جماعت کا ہے۔امام شافعی کے اس بارہ میں دو اقوال منقول ہیں۔ایک قول کے مطابق ہوں کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے اور دوسرے قول کے مطابق نافذ نہیں ہوتی۔آپ کے اکثر اصحاب نے اس قول کو ترجیح دی ہے جو جمہور کے مذہب کے موافق ہے یعنی یہ کہ مدہوش کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے۔لیکن مرغی نے ان کے دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔وہ مریض جس نے مرض کی حالت میں طلاق دی اور پھر مریض کی طلاق اس مرض میں فوت ہو گیا اس کی بیوی اس کی وارث ہوگئی یا نہیں ؟ امام مالک اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس کی بیوی وارث ہو گی۔امام شافعی اور ایک جماعت کے نزدیک وارث نہ ہوگی۔وہ لوگ جو اسے وارث قرار دیتے ہیں ان کے تین گروہ ہیں۔اول: ایک گروہ کے نزدیک اگر اس کا خاوند اس کی عدت کے اندر فوت ہو جائے تو وہ اس کی وارث ہوگی ورنہ نہیں۔یہ مذہب امام ابو حنیفہ اور اس کے اصحاب اور امام ثوری کا ہے۔دوم : دوسرے گروہ کے نزدیک جب تک وہ دوسری جگہ شادی نہ کرے اس وقوع تک وہ اس کی دارت سمجھی جائے گی۔اگر شادی کرلے گی تو دارت نہ ہوگی۔یہ مذہب امام احمد اور ابن ابی لیلی کا ہے۔سوم :- تیسرے گروہ کے نزدیک وہ مطلقاً وارث ہو گی۔خواہ اس کا خاوند ے ترجمہ :۔رحمتی اور بے عقل کی طلاق کے سوا باقی سب کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے۔یہ حضرت علی کا قول ہے