ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 196
194 وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک مدہوش کا حکم مجنون کی طرح ہے۔اور بعض کے نزدیک مدہوش کا حکم مجنون سے مختلف ہے۔بعض فقہاء کے نزدیک مدہوش اور مجنون دونوں برا بر ہیں کیونکہ دونوں کی عقل و دانست زائل ہو جاتی ہے۔چونکہ شریعت نے انسان کو اعمال کی تکلیف اس کی عقل و خرد کی وجہ سے دی ہے اس لئے بعض کے نزدیک مدہوش کی طلاق نافذ نہیں ہوتی بعض لوگوں نے مدہوش اور مجنون میں یہ فرق کیا ہے کہ مدہوش اپنے ارادہ سے ایسی اشیاء استعمال کرتا ہے جس سے وہ بیہوش ہو جاتا ہے مثلاً شراب یا کسی اور نشہ آور چیز کے پینے سے۔لیکن مجنون کو اس کے ارادہ سے جنون لاحق نہیں ہوتا۔اس لئے ان کے نزدیک مد ہوش کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے لیکن مجنون کی نہیں کیونکہ طلاق کے احکام میں سختی کا پہلو ملحوظ رکھا گیا ہے اس لئے مدہوش کو اس حکم سے مستثناء نہ کیا جائے گا۔فقہار نے ان احکام میں اختلاف کیا ہے۔جو مد ہوش کو لازم ہوتے ہیں اور جو لازم نہیں ہوتے۔امام مالک کے نزدیک طلاق عتاق۔زخموں کی دیت اور قتل کا قصاص مدہوش پر لازم ہیں لیکن نکاح اور بیج لازم نہیں ہیں۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس پر تمام احکام لازم ہوتے ہیں۔لیث کے نزدیک وہ افعال جو مد ہوش کے کلام کے ساتھ متعلق ہیں وہ اس پر لازم نہیں ہوتے۔مثلاً طلاق - عتاق - نکاح - بیچ حد قذف وغیرہ۔لیکن وہ افعال جو اس کے دیگر اعضاء کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کے نتائج اور احکام اسے لازم ہونگے۔مثلاً۔شراب خوری - قتل - زناء اور پوری کی حد اسے لگائی جائے گی۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق روایات سے ثابت ہے کہ آپ مدہوش کی طلاق کو صحیح قرار نہیں دیتے تھے اور بعض علماء کا خیال ہے کہ اس