ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 195 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 195

148 کے حکم میں زیادہ شدیت ہے لیکن بیع کے متعلق کوئی ایسا حکم وارد نہیں ہوا۔بیچنے کی طلاق انچے کی طلاق کے متعلق امام مالک کا مشہور مذہب یہ ہے کو کہ وہ نافذ نہیں ہوتی۔لیکن مختصر میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اگر بچہ قریب البلوغ ہو تو اس کی طلاق نافذ ہو جائے گی۔امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ اگر بچہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کی طلاق نافذ ہوگی۔عطار کا مذہب یہ ہے کہ جب بچہ بارہ برس کا ہو جائے تو اس کی طلاق نافذ ہوگی اور یہی روایت حضرت عمر بن الخطاب کے متعلق بیان کی گئی ہے۔مدہوش کی طلاق | مد ہوش آدمی کی طلاق کے متعلق جمہور فقہار کا نذیب یہ ہے کہ وہ نافذ ہو جائے گی۔لیکن مزنی اور امام ابو حنیفہ کے بعض اصحاب کے نزدیک نافذ نہ ہوگی۔ملہ شریعت اسلامی نے بلاوجہ طلاق دینے سے بہت سختی سے منع فرمایا ہے۔اور اس کو نا پسندید افعال میں سے قرار دیا ہے۔چنانچہ ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَبْغَضُ الْحَلَالِ إلى الله عَزَّ وَ جَلَ الطَّلاق - کہ اللہ تعالی کے نزدیک حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے ( ابوداؤد باب فی کرامتہ الطلاق ) دوسری طرف بلا وجہ طلاق لینے والی عورت کے متعلق فرمایا - اَيْمَا امْرَأَةٍ سَأَلت زوْجَهَا الطَّلَاقَ فِي غَيْرِ مَابَاسِ فَحَرَام عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ که اگر کوئی عورت بغیر کسی معقول وجہ کے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالعہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشی و حرام کر دیتا ہے داس روایت کو نسائی کے سواء باقی صحاح نے بیان کیا ہے، جہاں اللہ تعالی نے طلاق کے فعل سے باز رہنے کی تلقین کی ہے وہاں اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیوقوفی سے یا سنجیدگی سے طلاق دیدہ ہے تو اس کے متعلق بھی شریعت کا حکم یہی ہے کہ اس کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے۔چنانچہ اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ثلاث جدُهُنَّ جِل وَهَزَ لَهُوَ جِلَّ النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ والرجعة کہ تین باتیں ایسی ہیں جن میں سنجیدگی اور مذاق کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ان میں قائل کے قول کے مطابق حکم نافذ ہو جاتا ہے۔اور وہ تین امور یہ ہیں۔نکاح۔طلاق اور طلاق سے رجوع۔ترمذی باب في المجد والعزل في الطلاق ) امام ابو حنیفہ نے طلاق کرہ کے متعلق اسی لئے یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ اس کی طلاق ناخذ ہو جاتی ہے اما الا کی تائید ہیں جو دلائل دیئے ہیں ان کا جواب امام ما مذہب کی بحث