ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 194 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 194

بقیه حاشیه ۱۹۳ ۱۹۴ ثَلَاثَ جِد هُن جدَّ وَهَر لُهُنَّ جِنَّ النِّكَاحُ وَالطَّلَانُ وَالرَّجْعَةُ اس روایت کو نسائی کے علاوہ باقی صحاح نے بیان کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تین امور ایسے ہیں جن میں سنجیدگی اور مذاق دونوں برابر ہیں یعنی وہ مذاق سے بھی نافذ ہو جاتی ہیں اور سنجیدگی سے بھی۔وہ تین امور یہ ہیں۔نکاح ، طلاق طلاق کے بعد رجوع جو لوگ جبر کی طلاق کو نافذ قرار دیتے ہیں وہ اسے اس روایت پر قیاس کرتے ہیں۔کہ جس طرح مذاق کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے اسی طرح جبر کی طلاق بھی نافذ ہونی چاہیئے۔لیکن ابن قیم نے اپنی کتاب تہذیب السنن میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ قیاس درست نہیں ہے کیونکہ مذاق میں طلاق دینے والا دین کے ساتھ مذاق کرتا ہے۔اور وہ طلاق کے الفاظ قصدا اور اختیارا کہتا ہے لیکن چاہتا یہ ہے کہ ان الفاظ کا اثر اور نتیجہ ظاہر نہ ہو۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس شریعت کے ساتھ وہ مذاق کر رہا ہے اس شریعت کا حکم اس کے الفاظ کے مطابق مرتب نہ ہو۔بخلاف اس کے مجبور انسان اپنے مقصد او را را وہ سے طلاق نہیں دیتا بلکہ جبرا، اس سے طلاق کے الفاظ کہلائے جاتے ہیں۔لہذا شریعت بھی اسے مجبور قرار دیتی ہے اور اس کے الفاظ کا نتیجہ نافذ نہیں کرتی۔(بحوالله حاشیه منتقی جلد ۲ ص) امام مالک کے مذہب کی تائید مندرجہ ذیل صحابہ اور ائمہ اہل علم نے کی ہے۔حضرت علی حضرت عمر ابن عمرہ ابن عباس - ابن زبیر اور جابرین حکوم- حسن بصری جابربن زید شریح عطاء طاؤس" عمر بن عبد العزيزية فقہاء میں اور اعلی شافعی۔اسحاق۔ابو نور اور ابو عبید نے اس کی تائید کی ہے۔مندرجہ ذیل فقہاء کا مذہب امام مالک کے خلاف ہے۔ان کے نزدیک مجبور کی طلاق نافذ ہو جاتی ہے۔ابو قلابة شعبی" خفی"۔زہری - ثوری " ابو حنیفہ" - ابو یوسف اور محمد۔انکی دلیل یہ ہے کہ مجبور بھی شرعی احکام کا پابند ہے۔اور ہر حکم کے حسن وقع کو سمجھتا ہے۔اس لئے جب وہ الفظ کا تلفظ کرتا ہے۔اس وقت وہ اس کے نتائج کو بھی خوب سمجھتا ہے اس لئے اس کے کہے ہوئے الفاظ کے شرعی نتائج ظاہر میں مرتب ہونے چاہیئے۔آخرت کے نتائج کے لحاظ سے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔امام ابن رشد نے اس مسئلہ میں امام مالک کے مذہب کو درست قرار دیا ہے اور دلائل کے نوٹی سے یہی مذہبیت زیادہ مضبوط معلوم ہوتا ہے۔