ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 111 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 111

جن کے نزدیک یہ نکاح فاسد کے قائمقام ہے۔ان کے نزدیک نکاح فسخ ہو گا لیکن حق مہر واجب ہوگا۔کیونکہ اس پر سب فقہار کا اتفاق ہے کہ نکاح فاسد کے بعد جب جماع ہو جائے تو نکاح فسخ ہوتا ہے۔لیکن حق مہر کی ادائیگی واجب ہوتی ہے۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:۔ايما امرا و تلحَتْ بِغَيْرِ اذْنِ سَيْدِ مَا فَنِكَاحُهَا بَاطِل وَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَ مِنْهَالة تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نامرد سے نکاح کی صورت میں ایک سال تک نکاح فتح نہیں ہو گا یعنی نامرد کو ایک سال تک علاج کی مہلت دی جائیگی۔اگر وہ اس عرصہ میں تندرست ہو جائے تو بہتر ورنہ بیوی کو نکاح فسخ کرانے کا حق حاصل ہوگا۔مندرجہ بالا عیوب کی وجہ سے نکاح فسخ ہونے کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں۔(۱) بعض عیب ظاہر ہوتے ہیں اور وہ نظر آ جاتے ہیں لیکن مندرجہ عیوب مخفی ہیں اور نکاح کے وقت ان عیوب کا علم نہیں ہوتا۔اس لئے ان عیوب کی بناء پر نکاح فسخ ہوگا۔(۲) کیونکہ ان میں سے بعض عیوب ایسے ہیں جن کا اثر اولاد میں بھی جانے کا اندیشید ہوتا ہے۔مثلاً دانتوں کی بیماری۔یرقان اور گنجا پن۔برص وغیرہ۔حق مہر اور نفقہ کی عدم توفیق حق مہر کی عدم ادائیگی اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر خاوند حق مہر ادارہ کر سکتا ہو تو بیوی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے یا نہیں ؟ امام شافعی اور مالک کے نزدیک اگر مجامعت نہ ہوئی ہو تو اسے فسخ کا اختیار ہے۔اہ ترجمہ : وہ عورت جو اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح ناجائز ہے اور اس کے خاوند کے قومہ اس عورت کے لئے ہر واجب ہے کیونکہ اس نے اس سے تعلقات زوجیت قائم کئے ہیں۔۔