ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 112 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 112

امام مالک کے اصحاب میں اس مدت کی حد بندی میں اختلاف ہے جس میں حق مہر کی ادائیگی واجب ہے۔بعض کے نزدیک اس کے لئے مدت کی کوئی قید نہیں ہے۔خاوند جب ادائیگی کر سکے کرنے سے بعض کے نزدیک ایک سال کے اندر ادائیگی ضروری ہے ور نہ عورت کو فسخ نکاح کا اختیار ہو گا۔اور بعض کے نزدیک دو سال کے اندر ادائیگی ضروری ہے۔امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کی بیوی اس وقت تک اسکی قرض خواہ ہو گی جب تک حق مہر کی ادائیگی نہ ہو جائے۔اور اسکی بیوی کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ جب تک اس کا خاوند حق مہر کی ادائیگی نہ کرے اس وقت تک اسے تعلقات زوجیت قائم کرنے کی اجات نہ دے۔لیکن اس عرصہ کے نان و نفقہ کی ذمہ واری خاوند پر ہوگی۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ نکاح بچے کے مشابہ ہے یا اس مسئلہ میں بیوی کو حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے مجامعت سے جو محرومی ہوئی ہے۔یہ اکیلا کے مشابہ ہے۔جس کے نزدیک یہ بیچ کے مشاہد ہے اس کی نزدیک بیوی کو فسخ نکاح کا اختیا ہوگا۔جس کے نزدیک یہ ایلاء کے مشابہ ہے اس کے نزدیک وہ نان و نفقہ کی حقدار ہوگی اور حق مہر کی وصولی میں اسکی حیثیت ایک قرض خواہ کی ہوگی۔نان و نفقہ کی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو نفقہ ادا نہ کر سکے تو امام مالک و عدم ادائیگی شافعی احمد ابو ثور - ابو عبید اور فقہار کی ایک جماعت کے نزدیک اس وجہ سے بیوی کو فتح نکاح کا اختیار حاصل ہوگا۔نے ایلام قرآن کریم کے محاورہ میں اس قسم کو کہتے ہیں جو ایسی بات پر کھائی جائے کہ مرد اپنی بیوی سے کوئی تعلق نہ رکھے گا۔چونکہ اس قسم میں عورت کے حق کا اختلاف ہے اس لئے اسے ایلاء کہا گیا۔