ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 110 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 110

If امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور ثوری کے نزدیک صرف دو عیوب کی وسید سے نکاح فسخ ہو سکتا ہے اور وہ رتق اور قرن ہے۔احکام ضخ جو فقہا فسخ کے قائل ہیں وہ سب اس امر پر متفق ہیں کہ اگر خاوند جماع سے قبل کسی عیب پر مطلع ہو جائے اور طلاق دیدے۔تو اس پر کوئی حق مہر واجب نہیں ہے۔اور اگر جماع کے بعد کسی عیب پر اطلاع پائے تو اس بارہ میں فقہار کا اختلائی ہے امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس کا ولی قریبی رشتہ دار ہے جو اس کے عیب پر مطلع ہو سکتا ہے۔مثلاً باپ یا بھائی تو حق مہر کا نقصان وہ برداشت کرے گا۔لیکن اگر ولی الیسا رشتہ دار ہے۔جو غیب پر اطلاع نہیں پاسکتا تو اس صورت میں حق مہر کی رقم وہ عورت واپس کرے گی کیونکہ اس نے جان بوجھ کر اس مرد سے دھوکا کیا ، البتہ عورت کے حق مہر میں سے ہے دینا نہ اسے معاف کر دیا جائے گا اور اس سے وصول نہیں کیا جائے گا۔امام شافعی کے نزدیک اگر خاوند بیوی سے مجامعت کر چکا ہو تو اس پر حق مہر کی ادائیگی لازم ہوگی اور وہ اس میں سے کچھ بھی اپنی بیوی سے یا اس کے ولی سے واپس لینے کا حقدار نہ ہوگا۔وجه اختلاف | اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک یہ نکاح بیج کے مشاہد ہے اور بعض کے نزدیک یہ نکاح اس فاسد نکاح کے مشابہ ہے جس کے بعد جماع ہو چکا ہو۔جو اسے بیع کے مشابہ قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک حق مہر واجب نہ ہوگا اور نکاح فسخ ہوگا۔کیونکہ بیچ عیب کی وجہ سے فسخ ہوتی ہے اور قیمت واجب نہیں ہوتی نے اس صورت میں اگر خاوند حق مہر ادا کر چکا ہو تو اس کا ولی وہ رقم خاوند کو واپس ادا کرنے کا ذمہ وار ہوگا۔اور اگر خاوندیقی مرادانہ کر چکا ہو تو اس صورت میں خاوند بیوی کو حق مہر ادا کریگا بعد اس کے ولی سے بطور تاوان وصول کرے گا۔دینار کی قیمت اندازاً اڑھائی روپے بنتی ہے۔