ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 69 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 69

49 وجہ سے بھی اس کی ماں حرام ہو جاتی ہے یا صرف نکاح صحیح یا شبیہ نکاح کی بنا پر ہی حرام ہوتی ہے۔چنانچہ ان چاروں مسائل کے متعلق ضمنی بخشیں درج کی جاتی ہیں۔حجر الزوج کی شرط یہ بحث کہ کیا بیوی کی بیٹی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ خاوند کے پاس اس کی تربیت میں موجود ہو یا یہ ضروری نہیں۔اس کے متعلق جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ خاوند کے پاس موجود ہونا اسکی حرمت کی شرط نہیں ہے۔داؤد ظاہری کے نزدیک اس کے پاس موجود ہونا شرط ہے اس اختلاف کی بناء قرآن مجید کے الفاظ التي فِي حُجُورِكُمْ " ہیں کہ کیا یہ ایسی شرط ہے جو اس کی حرمت پر اثرانداز ہوتی ہے یا نہیں۔پس جس نے اس کو حرمت کے لئے ضروری شرط قرار دیا ہے اس کے نزدیک بیوی کی بیٹیاں جو خاوند کے پاس زیر تربیت نہیں حرام نہیں ہیں۔دیگر شرائط اس پر تمام فقہاء متفق ہیں کہ بیوی سے جماع کے بعد اس کی بیٹی فاو پر حرام ہو جاتی ہے۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ خارجی مباشرت سے یا شہوت کی نظر سے اس کے عضو بنائی کو دیکھنے سے بھی حرمت لازم آتی ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق امام مالک ثوری - ابو حنیفہ اوزاعی اور لیث بن سعد کا مذہب یہ ہے کہ شہوت کے ساتھ خارجی مباشرت سے اس کی بیٹی حرام ہو جاتی ہے اور امام شافعی کا قول بھی اس کے مطابق ہے۔داؤد ظاہری اور مزنی کے نزدیک مجامعت کے بغیر حرمت نہیں ہوتی۔امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے۔امام مالک کے نزدیک شہوت کے ساتھ نظر بھی مجامعت کے برابر ہے۔یہ نظر خواہ کسی عضو کی طرف ہو۔لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک صرف شرمگاہ کی طرف شہوت کی نیت سے