ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 64 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 64

पत اور جس کے نزدیک بیچ کے مشابہ نہیں ہے اس کے نزدیک ہر مثل لازم آئے گا کیونکہ نکاح کے لئے جہر کا ذکر ضروری نہیں ہے۔امام مالک کے اصحاب میں سے جو اس طرف گئے ہیں کہ حلف اٹھانے کے بعد وہ دونوں مصالحت نہیں کر سکتے یا اپنے قول سے رجوع نہیں کر سکتے وہ اس کو لکان کے قائمقام قرار دیتے ہیں۔ابن رشد کے نزدیک یہ قول انتہائی ضعیف ہے۔کیونکہ اس اختلاف کا لعان کے ساتھ کسی قسم کا بھی اشتراک نہیں ہے۔مہر کی وصولی کے متعلق اختلات کی مثال یہ ہے کہ خاوند کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو مہر ادا کر دیا ہے اور بیوی کہتی ہے کہ سینے ابھی وصول نہیں کیا۔اس کے متعلق امام شافعی خوری - احمد اور ابو ثور کا مذہب یہ ہے کہ اس بات میں عورت کا قول معتبر ہوگا۔امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ مجامعت سے قبل بیوی کا قول معتبر ہو گا اور مجامعت کے بعد حنا وند کا۔امام مالک کے بعض اصحاب یہ کہتے ہیں کہ امام صاحب کا یہ مذہب اس بنا پر ہے کہ آپ کے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ لوگ جب تک مہر ادا نہ کر لیتے اس وقت تک تعلقات زوجیت قائم نہ کرتے تھے۔پس اگر کوئی ملک ایسا ہو جہاں یہ دستور نہ ہو تو اس جگہ تنازعہ کی صورت میں ہمیشہ عورت کا قول ہی معتبر ہوگا۔ابن رشد کہتے ہیں کہ یہ قول کہ اس بارہ میں عورت کا قول ہی معتبر ہوگا۔زیادہ ورست اور صائب ہے۔کیونکہ وہ مدعی علیہا ہے۔امام مالک اس طرف گئے ہیں کہ مجامعت کے بعد چونکہ مرد کی پوزیشن زیادہ قومی ہوتی ہے اس لئے اس کا قول زیادہ معتبر ہوگا۔لے اس بارہ میں ابن رشد کا خیال زیادہ قومی معلوم ہوتا ہے پس اگر خاوند کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو عورت کا قول بحیثیت بھی علی مختلف کے ساتھ قابل قبول ہوگا۔