ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 65
امام مالک کے اصحاب نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے کہ اگر نکاح کے بعد تعلقات زوجیت قائم ہوئے ایک مدت گذر چکی ہو تو اس صورت میں خاوند کا قول قسیم کے ساتھ معتبر ہوگا یا بغیر قسم کے ایک گروہ ایک طرف گیا ہے اور دوسرا دوسری مرت لیکن ابن رشد کے نزدیک اس صورت میں خاوند کا قول قسم کے ساتھ مقبول ہوگا مہر کی جنس کے متعلق اختلاف کی مثال یہ ہے کہ خاوند کہتا ہے لینے تمہارے نکاح کے لئے یہ بھینس حق مہر میں مقرر کی تھی۔لیکن بیوی کہتی ہے کہ تم نے حق مہر ہیں قلال کپڑا مقرر کیا تھا۔اس بارہ میں مشہور مذہب یہ ہے کہ اگر تعلقات زوجیت قائم ہونے سے قبل اختلاف واقع ہوا ہو تو دونوں سے قسم لی جائینگی اگر دونوں قسم کھائیں تو نکاح فسخ ہوگا۔اگر اختلاف تعلقات قیام کے بعد واقع ہوا ہو تو نکاح قائم رہے گا اور ہر شل لازم آئے گا۔بشرطیکہ میشل عورت کے دعوئی سے زیادہ نہ ہوا اور مرد کے دھوئی سے کم نہ ہو۔ابن قصار کہتے ہیں کہ اگر اختلاف تعلقات زوجیت سے قبل ہو تو دونوں سے حلف لیا جائے گا اور نہ خاوند کا قول معتبر ہوگا۔امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ دونوں سے حلف لیا جائے گا اگر دونوں حلف اُٹھا۔میں تو مہر مثل کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔اور نہ ہو قسم کھائے اس کا قول معتبر ہوگا۔مہر کی ادائیگی کے وقت کی تعیین میں اختلاف کی مثال یہ ہے کہ خاوند یہ کہتا ہے کہ لینے دوماہ کے بعد مہر ادا کرنے کے وعدہ پر نکاح کیا ہے اور بیوی یہ کہتی ہے کہ سینے ایک ماہ کے بعد مہر وصول کرنے کے وعدے پر نکاح کیا ہے۔ایک اختلاف یہ ہے کہ ہر مجامعت کے بعد واجب ہوگا۔یا اس سے قبل۔جس نے نکاح کو بیچ کے قائمقام قرار دیا ہے اس کے نزدیک مجامعت کے بعد مہر خواب ه به مذیب زیادہ صائب معلوم ہوتا ہے کیونکہ اسلام کے عمومی ابو کام میں اس اصل کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دو مسلمانوں کے معاہدات کو قائم رکھا جائے۔یہ صورت چونکہ اس اصول کی تائید کرتی ہے اس لئے یہ زیادہ قابل قبول ہے۔