ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 63
سور حلف لیا جا وگیا۔اگر وہ دونوں حلف اُٹھا لیں تو ممثل لازم آئے گا۔اور امام مالک کے مذہب کے مطابق فسخ نکاح کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔یہ مذہب امام شافعی نوری اور ایک جماعت کا ہے۔ایک مذہب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس صورت میں بغیر حلف کے ہر مثل کا فیصلہ کیا جائے گا بشرطیکہ مہر مثل عورت کے دعوئی سے زیادہ اور مرد کے دعوئی سے کم نہ ہو۔وجہ اختلاف یہ اختلاف رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مفہوم میں اختلاف کی بنا پر ہے یعنی :- الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ انْكَرَ اس ارشاد کے متعلق بعض یہ کہتے ہیں کہ اس ارشاد کا باعث کوئی خاص امر ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اس کا کوئی خاص باعث نہیں ہے بلکہ مدعی علیہ پر اسکی ذاتی حیثیت سے حلف آتا ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مدعی علیہ پر حلف کسی خاص وجہ سے آتا ہے ان کے نزدیک اگر وہ وجہ مدعی میں بھی پائی جائے گی تو اس سے بھی حلف لیا جائے گا۔اور اگر دونوں کی پوزیشن برابر ہو گی تو دونوں پر صلف آئے گی اور نکاح فسخ ہو جائے گا۔جو یہ کہتے ہیں کہ مدعی علیہ پر خلف اس کی ذاتی حیثیت سے آتی ہے اور اس کا کوئی خاص سبب نہیں ہے ان کے نزدیک خلف صرف خاوند پر آئیگی کیونکہ وہ مدعی علیہ ہے۔ایک قول یہ ہے کہ دونوں پر علت آئے گی کیونکہ اس مسئلہ میں دونوں مدعی اور دونوں مدعی علیہ ہیں۔امام مالک اور امام شافعی میں حلف کے بعد فسخ نکاح یا مہرشل کے متعلق اختلاف کی بنا یہ ہے کہ نکاح بیع کے مشابہ ہے یا نہیں جس کے نزدیک بیچ کے مشابہ ہے اس کے نزدیک حلف کے بعد نکاح فسخ ہو جائے گا۔لے یہ فیصلہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ بالعموم حق مہر ایک خاندان میں مساوی مقدار میں ہی مقرر ہوتا ہے پس اگر عورت کا دعوئی مہر مثل کے مطابق ہوگا تو اس صورت میں اس کی پوزیشن زیادہ قومی اور قابل قبول ہوگی لیکن اگر خاوند کے پاس اپنے دعوی کا ثبوت ہو تو اس کا قول معتبر ہوگا۔سے ترجمہ : ثبوت اس کے ذمہ ہے جو دعوی کرے اور قسم اس کے لئے ہے جو انکار کرے۔