ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 180
۱۸۰ کہ اس نے طلاق کی نیت نہ کی تھی یہ امام ابو حنیفہ کا مذہب ہے۔امام مالک کا یہ دھوئی کہ واضح کنایات میں خاوند کے اس قول کی تصدیق نہ کی جائے گی کہ اس نے طلاق کا ارادہ نہ کیا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک عرق لغوی اور عرف شرعی دونوں اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس قسم کے الفاظ طلاق کے لئے ہی استعمال ہوتے ہیں۔سوائے اس کے کہ کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جو اس کی خلاف واضح دلیل ہو۔اسی طرح امام مالک نے جو یہ کہا ہے کہ اس کے اس دعوی کی بھی تصدیق نہ کی جائے گی۔کہ اس نے تین سے کم طلاقوں کی نیت کی تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ طلاق بائن کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور امام مالک کے نزدیک بینونت یا ضلع سے ہوتی ہے یا تین طلاقوں سے۔پس جب اس جگہ ضلع کا قرینہ موجود نہیں ہے یعنی طلاق کے مقابلہ میں معاوضہ کی ادائیگی نہیں ہے تو اب تین طلاقوں کا حکم باقی رہ جاتا ہے۔امام شافعی نے اپنے مذہب کی تائیدیں یہ دلیل دی ہے کہ اس بات پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ جب خاوند اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں طلاق دے تو اس صورت میں اس کے اس دعوی کو تسلیم کیا جائے۔کہ اس کی نیت تین طلاق کی نہیں تھی بلکہ ایک طلاق کی تھی۔پس غیر صریح الفاظ میں طلاق دینے کی صورت میں تو اس کا قول بدرجہ اولی تسلیم کر لینا چاہیئے کیونکہ صریح دلالت غیر صریح دلالت سے قوی تر ہوتی ہے۔امام شافعی کی دوسری دلیل حدیث رُکا نہ ہے جو تین طلاقوں کے باب میں گزر چکی ہے رکانہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ مینے اپنی بیوی کو جو ایک وقت میں تین قطعی طلاقیں دی تھیں اس وقت میری نیت ایک طلاق کی تھی چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ کے بیان کو تسلیم کر لیا تھا اور اس کو رجوع کا اختیار دے دیا تھا۔