ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 175 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 175

۱۷۵ پر ہی دلالت کرتے ہیں یا عرف شرعی کے مطابق طلاق کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں جن کے نزدیک یہ لغوی معنی پر ہی دلالت کرتے ہیں ان کے نزدیک جب یہ الفاظ طلاق کے معنی میں مستعمل ہونگے تو اس صورت میں طلاق کے معنی مجازی ہوں گے حقیقی نہ ہوں گے۔بعض لوگوں کے نزدیک صریح طلاق ان تین لفظوں میں محدود ہے کیونکہ قرآن مجید میں یہ الفاظ طلاق کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔نیز طلاق ایک عبادت ہے اور عبادت کے لئے الفاظ کا استعمال ضروری ہے۔عبادت چونکہ ان الفاظ کے ساتھ ہونی چاہیئے جو نص شرعی میں موجود ہوں۔اس لئے ان لوگوں کے نزدیک طلاق صریح صرف ان تین لفظوں میں ہی محدود ہے۔امام مالک - شافعی اور ابو حنیفہ کے نزدیک اگر طلاق کے لئے یہ الفاظ استعمال کرے کہ تھے تمہیں طلاق دی۔اس کے بعد وہ یہ کہے کہ یے طلاق کی نیت نہیں کی تھی امام شافعی کے نزدیک فراق اور سراحت کے الفاظ کا بھی یہی حکم ہے یعنی اس صورت میں بھی اس کی یہ بات نہ مانی جائے گی۔کہ اس کی نیت طلاق کی نہ تھی۔امام مالک نے ان الفاظ کے متعلق امام شافعی سے صرف یہ اختلاف کیا ہے کہ اگر طلاق کا قرینہ موجود ہو گا تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی۔لیکن اگر طلاق کا قرینہ موجود نہ ہو گا تو اس کا قول تسلیم کیا جائے گا۔مثلاً اگر میاں بیوی کا تنازعہ ہو اور بیوی اس تنازعہ کے دوران میں طلاق کا مطالبہ کرے اور اس کے جواب میں وہ یہ کہے کہ تم مجھ سے جدا ہو یا سینے تمہیں رخصت کر دیا بعد میں وہ کہے کہ میری نیست اس سے طلاق کی نہ تھی تو اس کی یہ بات مانی جائیگی۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ تمہیں طلاق ہے اور اس کے بعد وہ یہ کہے کہ اس نے ان الفاظ میں دو یا دو سے زیادہ طلاقوں کا ارادہ کیا تھا تو امام مالک کا اس بارہ میں یہ مذہب ہے کہ اس کی بیوی کو اس کی نیت کے مطابق دو یا دو سے زیادہ طلاقیں پڑی جائینگی