ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 176 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 176

164 امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔لیکن ان کے نزدیک اگر وہ طلاق دیتے وقت یہ کہے کہ تمہیں ایک طلاق ہے اور بعد میں یہ دعوی کرے کہ میری نیت دو یا دو سے زیادہ طلاقوں کی تھی تو اس صورت میں اس کی بات نہ مانی جائے گی۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک " تمہیں طلاق“ یا ” تمہیں ایک طلاق" کے الفاظ سے اس کی بیوی کو دو یا تین طلاقیں نہیں پڑ سکتیں خواہ اس کی نیت دو یا تین طلاقوں کی ہو۔کیونکہ مفرد الفاظ سے کنایہ یا صراحتہ جمع کا مفہوم نہیں لیا جا سکتا۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک طلاق کے لئے الفاظ کے بغیر محض نیت ہی کافی ہے۔اور بعض کے نزدیک اس کے لئے نیت کے ساتھ ساتھ ایسے الفاظ بھی ضروری ہیں جن میں طلاق کا احتمال پایا جاتا ہو۔جن کے نزدیک طلاق کے لئے محض نیت ہی کافی ہے ان کے نزدیک اس کی نیت کے مطابق دو یا تین طلاقیں واقع ہو جائینگی۔اسی طرح اس شخص کے نزدیک بھی دو یا تین طلاقیں واقع ہو جائینگی جس کے نزدیک نیت کے ساتھ ایسے الفاظ بھی ضروری ہیں جن میں طلاق کا احتمال پایا جاتا ہے اور اس کے نزدیک طلاق کے لفظ میں کثرت عدد کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔جس کے نزدیک نیت کے ساتھ صریح الفاظ ضروری ہیں۔اور طلاق کے لفظ میں کثریت عدد کا مفہوم نہیں پایا جاتا۔اس کے نزدیک خواہ اس کی نیت موجود ہویا نہ ہو دو یا تین طلاقیں واقع نہ ہونگی۔امام مالک کا مشہور مذہب یہ ہے کہ طلاق کے لئے لفظ اور نیت دونوں ضروری ہیں۔یہی مذہب امام ابو حنیفہ کا ہے لیکن امام ابو حنیفہ کا ایک نے ہب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نیت کے بغیر محض الفاظ سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔اسی طرح امام شافعی کے نزدیک بھی صریح الفاظ کی موجودگی میں طلاق کے لئے نبت کی ضرورت نہیں ہے۔