ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 174
۱۷۴ نزدیک محض نیت سے بھی طلاق ہو جاتی ہے خواہ لفظا طلاق دے یا نہ دے۔جنہوں نے طلاق کے معاملہ میں تہمت سے بچنے کو ضروری قرار دیا ہے ان کے نزدیک طلاق صریح الفاظ میں ہونی چاہیے۔خواہ نیت طلاق ہو یا نہ ہو۔جمہور فقہاء اس امر پر متفق ہیں کہ مطلق طلاق کے الفاظ کی دو قسمیں ہیں:۔(۱) صریح۔(۲) کتابہ۔لیکن صریح اور کنایہ کی تفصیل اور اس کے احکام میں اختلاف ہے۔چنانچہ اس جگہ مشہور اور اصولی اختلافات بیان کئے جاتے ہیں۔امام مالک کے نزدیک طلاق کے لئے صریح لفظ صرف " طلاق" ہے۔اس کے علاوہ باقی تمام الفاظ کنایہ میں شامل ہیں۔امام شافعی کے نزدیک صریح طلاق کے لئے تین الفاظ ہیں۔(۱) طلاق (۳) فراق (۳) سراحت چونکہ یہ ہر سہ الفاظ قرآن مجید میں طلاق کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں اس لئے امام شافعی کے نزدیک یہ تینوں الفاظ صریح طلاق کا حکم رکھتے ہیں۔لفظ طلاق کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ یہ صریح ہے کیونکہ طلاق کا لفظ رت و مرد کی جدائی کے لئے ہی وضع کیا گیا ہے۔لہذا اس ضمن میں یہ لفظ عورت اصل الاصول ہے۔فراق اور سراحت کے الفاظ کے متعلق اختلاف ہے کہ کیا یہ اپنے لغوی معنی تم کھا لے تو اس صورت میں اس پر نذر کا پورا کرنا یا قسم کو پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے پس جس نے طلاق کو ان دونوں کے مشابہ قرار دیا ہے ان کے نزدیک اگر کوئی شخص طلاق کی نیست بھی کرلے گا تو اس کی بیوی کو طلاق واقعہ ہو جائے گی خواہ لفظ طلاق استعمال نہ کیا ہو۔کی ے طلاق کے متعلق فراق اور صراحت کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو یہ کہے کہ پینے تمہیں جدا کر دیا۔یا سینے تمہیں رخصت کر دیا۔بعض لوگوں کے نزدیک ان دو لفظوں سے بغیر نیت یا بغیر قرینہ کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن بعض فقہاء کے نزدیک ان الفاظ سے نہتہ یا قرینہ کے بغیر طلاق واقعہ نہیں ہوتی۔