گلشن احمد

by Other Authors

Page 70 of 84

گلشن احمد — Page 70

138 137 اپنے قریبی رشتہ داروں کے سوا کسی پر اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں۔( ملخص سوره نور آیت 32,31) ”اے نبی اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی بیویوں سے کہہ دے کہ (جب وہ باہر ھیں اپنی بڑی چادروں کو سروں پر سے گھسیٹ کر اپنے سینوں تک لے آیا کریں۔‘“ (احزاب:60) بچی۔اگر میں کہوں کہ پردے کے احکام کی بات مردوں کو مخاطب کر کے شروع ہوئی ہے تو کیا یہ ٹھیک ہے۔ماں۔جی ہاں ٹھیک ہے اللہ پاک نے حکم فرمایا کہ مومن اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اُن تمام راستوں کی حفاظت کریں جن سے بدی کے داخلے کا امکان ہے۔اس طرح عورتوں سے پردہ کروانے کی ذمہ داری پہلے مردوں پر ڈالی ہے۔آپ کے ذہن میں کوئی سوال اور ہو تو پوچھ لیں۔بچہ۔مردوں کی آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم سن کر میں سوچ رہا ہوں کہ اس میں یہ اجازت موجود ہے کہ ضرورت کے وقت عورتیں باہر نکل سکتی ہیں۔ماں۔جی ہاں عورتوں کو گھروں میں قید نہیں رکھا گیا بلکہ وہ ضروری کاموں کے لئے باہر نکل سکتی ہیں مثلاً سیر کرنے جا سکتی ہیں تعلیم حاصل کر نے جا سکتی ہیں۔بازار جا سکتی ہی۔اگر ضرورت ہو تو ملازمت کر سکتی ہیں۔کھیتوں میں کا م کر سکتی ہیں۔سفر کر سکتی ہیں۔یہاں تک آزادی ہے اور آپ ہی آپ ظاہر ہو اس پر بھی مختلف حالات میں مختلف بندشیں ہیں۔قد ، جسم اور چال تو چھپ نہیں سکتی۔اس حکم کی روشنی میں مجبوری کی حالت میں ڈاکٹر کو دکھانے کے لئے جسم کا کوئی حصہ کھولنا بھی جائز ہے۔کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں کے ہاتھ پاؤں پنڈلیوں کا کچھ حصہ کھل سکتا ہے اسی طرح دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والی عورتیں تقویٰ کے ساتھ اپنے پردے کی حدود خود متعین کر سکتی ہیں۔بچی۔اس زمانے میں اگر میں قرآنِ پاک کے معیار کا پردہ کرنا چاہوں تو کس طرح کرسکتی ہوں۔ماں۔اللہ پاک آپ کو اس نیک جذبے کی جزا دے آئیے ہم قرآن پاک کے معیار کا پردہ عملاً کر کے دیکھتے ہیں۔ایک ایک لفظ کو دیکھئے۔وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ اور چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیوں کو بھینچ کر اپنے گریبانوں تک لے آئیں۔خمار اُس چادر کو کہتے ہیں جس سے سر اور چہرہ ڈھانکا جائے۔( صحیح مسلم باب الطلاق) خمار کا مطلب رومال یا سکارف ہے بڑی چادر نہیں اور جیب کہتے ہیں میض کے چاک کو ، مطلب یہ ہوا اپنے سکارف کوسر کے سامنے سے کھینچ کر سینے تک لے آئیں۔آپ سکارف باندھیں اور سامنے سے اُسے کھینچ کر سینے تک لے آئیں دیکھئے پورا چہرہ ڈھک گیا۔سامنے والوں کو آپ کا چہرہ بالکل نظر نہیں آ رہا جبکہ آپ کو اپنا رستہ ، اپنی کتاب اپنا کام سب کچھ نظر آسکتا ہے۔بچی۔آج کی دنیا میں مناسب پردہ کس شکل میں ہو سکتا ہے؟ ماں۔اصل پردہ لباس کے اُوپر ایک ڈھیلا ڈھالا لبادہ اوڑھ لینا اور سر پر اس طرح سکارف پہننا جس کو آگے کھینچا گیا ہو اور منہ ڈھک جائے اس میں وہ برقع جو پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں رائج ہے لازمی نہیں۔آپ جو بھی پہنیں پردے کی رُوح کے مطابق ہونا چاہیے۔کوٹ ایسا تنگ نہ ہو کہ جسم کا ہر حصہ الگ الگ نظر آئے۔آج کی دُنیا سے آپ کا مطلب سمجھتی ہوں۔دُنیا کے ہر حصے کے لئے جہاں مسلمان عورت ہے۔اصول ایک ہے پھر الَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَای گنجائش ہے اور یہ گنجائش تقویٰ کے ساتھ استعمال کرنی ہے۔جس کی رُوح پر دے کی حفاظت ہو نہ کہ بے پردگی کا بہانہ۔