گلشن احمد

by Other Authors

Page 69 of 84

گلشن احمد — Page 69

136 135 کے لئے ضروری ہیں اب ہم گفتگو کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ پردہ صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں۔بچی۔پہلے یہ بتائیے کہ پردہ کسے کہتے ہیں؟ ماں۔میں آپ کو پردے کا مطلب سمجھاتی ہوں پردہ کہتے ہیں شرم حیا ، حجاب،اوٹ اور چھپانا۔انسان اللہ تعالیٰ کی سمجھ رکھنے والی مخلوق ہے۔ہر دور کا انسان صدیوں کے تہذیبی ورثے کی ایک کڑی ہوتا ہے۔تہذیب کی سمجھ بوجھ سب کاموں کو ایک خاص رنگ اور سلیقہ دیتی ہے۔چھوٹے بچے دودھ پینے کی عمر میں ہوتے ہیں وہ نا سمجھ ہوتے ہیں مگر ماں لباس تبدیل کرتے وقت یہ خیال رکھتی ہے کہ بچے کو سب کے سامنے نہیں کھولنا۔آہستہ آہستہ یہ شعور بچے میں منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وہ بغیر سمجھائے یہ جان لیتا ہے کہ جسم کے کچھ حصے سب کے سامنے آنا مناسب نہیں یہ پردہ کا پہلا شعور ہے۔کچھ عمر تک بچے امی ، آیا ، باجی سے نہا لیتے ہیں مگر پھر خود اپنی صفائی کے کام کرنے لگتے ہیں اور شرم وحیا سے الگ کمرے میں لباس تبدیل کرتے ہیں۔غلطی سے بھی کسی کی نظر پڑنے سے اتنی شرم محسوس کرتے ہیں گویا مر جائیں گے۔اس طرح پر دے کا شعور آگے بڑھتا آپ ٹھیک کہتی ہیں یہ احساس فطری طور پر پیدا ہو جاتا ہے مگر میں نے یہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ بھی پردے کا حصہ ہے۔بچی۔میں نے اپنی کتاب ”گل میں پڑھا تھا لڑکے لڑکیاں جب بڑے ہو جاتے ہیں تو مل کر نہیں کھیلتے۔لڑکیاں بزرگوں کے سامنے سر پر دوپٹہ لے کر جاتی ہیں۔لڑکے ٹوپی لیتے ہیں۔یہ بھی پردہ ہے۔ماں۔آپ بالکل ٹھیک سمجھی ہیں۔اسی طرح آرام کے وقتوں میں ماں باپ کے کمروں میں اجازت لے کر جاتے ہیں اور یہ بھی پردہ ہے۔بچہ۔گھر کے افراد سے بھی پردہ ہوتا ہے؟ ماں۔اب تک گھر کے افراد میں ہی پردہ کی بات ہو رہی تھی پھر قریبی رشتے دار ہوتے ہیں مثلاً آپ نے دیکھا ہو گا کہ آپ کے دادا جان ، ناناجان ، تایا جان، ماموں جان، چچا جان ، خالو جان، پھوپھا جان کے سامنے میں اچھی طرح دوپٹہ اوڑھ کر جاتی ہوں یہ بھی پردہ ہے۔اسی طرح جب میرے پاس قریبی رشتہ دار عورتیں بیٹھی ہوتی ہیں تو آپ کے ابا جان سیدھے ہماری طرف بلا روک ٹوک نہیں آتے بلکہ کچھ ٹھہر کر اپنے آنے کا احساس دلا کر آگے آتے ہیں تا کہ بے تکلف بیٹھی ہوئی خواتین سنبھل کر بیٹھ جائیں سر پر دوپٹہ لے لیں یہ بھی پردہ ہے۔بچہ۔قرآن پاک میں موجود پردے کی آیات کی وضاحت کیجئے۔ماں۔اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں قومی ترقی کے رہنما اصول بیان فرمائے ہیں مثلاً فرمایا ہے کہ بُری بات کرنا اور اُسے مشہور کرنا دونوں سے بچنا چاہیے۔میاں بیوی میں بدظنی ہو جائے تو صلح صفائی کروانی چاہیے۔گواہی سچی دینی چاہیے۔قومی اور انفرادی اخلاق کو بچانے کے لئے حکمت کے ساتھ کبھی عفو اور کبھی سزا سے کام لیا جائے۔گھروں میں اجازت لے کر جانا چاہیے۔اگر مرد اور عورت کا آمنا سامنا ہو جائے تو اُن کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو آنکھیں کھول کر نہ دیکھا کریں اور اُن تمام اسباب اور راستوں کی حفاظت کریں جن سے بدی دل میں داخل ہوتی ہے اور اپنے جسم کی خوبصورتی غیر محرم پر ظاہر نہ کریں۔سوائے اس کے جو آپ ہی آپ ظاہر ہو جائے۔ایک اور جگہ یہ ہدایات دیں کہ مومن مرد اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور مومن عورتیں بھی اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس زینت کے جو آپ ہی آپ بے اختیار ظاہر ہو جاتی ہو اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینے پر سے گزار کر اور اس کو ڈھانک کی پہنا کریں اور