گلشن احمد

by Other Authors

Page 71 of 84

گلشن احمد — Page 71

140 139 بچہ۔پردے کا مقصد کیا ہے؟ ماں۔معاشرے کو پاک کرنا۔بُرائیاں پیدا ہونے کے امکان کو ختم کرنا۔اس زمانے کے حاکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پردہ کی غرض و غایت کے متعلق جو فرمایا ہے میں اسلامی اصول کی فلاسفی سے ایک اقتباس سناتی ہوں۔ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور اُن کی زینت کی جگہ کو ہر گز نہ دیکھیں نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے۔اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور اُن کے حُسن کے قصے نہ سُنہیں نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے بلکہ ہمیں چاہیے کہ اُن کو سُننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مُردار سے تا ٹھوکر نہ کھاویں کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکر میں پیش آویں سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔اگر ہم ایک بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر اُمید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اس خیال میں غلطی پر ہیں۔سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قومی کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آئے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 ص 344,343) انسان کا خالق انسان کی فطرت کو سب سے بہتر سمجھتا ہے اس لئے انسان کی پاکیزگی کی حفاظت کے لئے احکامات دیے ایک آسان سی مثال سے بات سمجھاتی ہوں۔اگر گھر میں بہت سے لال بیگ ، ٹڈیاں جھینگر ہو جائیں تو انہیں مارنے کے لئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے لیکن اگر ایسی جگہوں پر جہاں اُن کے انڈے دینے کا امکان ہو پہلے ہی صفائی رکھی جائے اور مناسب دوا ڈال دی جائے تو یہ گند پیدا ہی نہیں ہوگا۔جس طرح مشہور ہے کہ لال بیگ کے ایک انڈے سے بارہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک ایک بُرائی سے کئی کئی بُرائیاں جنم لیتی ہیں۔اسلام ایک مکمل دین ہے اس لئے اُس نے عورت اور مرد دونوں کی پاکیزگی قائم رکھنے کے احکامات دیے ہیں۔پردے کی رُوح اور حدود کو سمجھنے کے لئے حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں دلچسپ روایات پڑھتے ہیں۔تفسیر کبیر جلد ششم کے صفحہ نمبر 301,300 پر تحریر ہے۔لیجئے بیٹا آپ پڑھ کر سنائیے۔بچہ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رشتے کے سلسلے میں ایک صحابیہ اُم سلیم کو بھیجا کہ وہ جا کر دیکھ آئے کہ لڑکی کیسی ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 ص 2221) اگر اس وقت چہرہ کو نہ چھپایا جاتا تھا تو ایک عورت کو بھیج کرلڑکی کا رنگ وغیرہ معلوم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک نوجوان نے اپنے رشتے کے لئے ایک جگہ پسند کی اور اُس نے لڑکی کے باپ سے درخواست کی کہ مجھے اور تو سب باتیں پسند ہیں میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ایک دفعہ لڑکی دیکھنے کی اجازت دے دیں تاکہ میرے دل کو اطمینان ہو جائے۔چونکہ اس وقت پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا اس لئے لڑکی کے باپ نے اس کو اپنی ہتک سمجھا اور خفا ہو گیا وہ نوجوان رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے تمام واقعہ بیان کیا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک پردے کا حکم نازل ہو چکا ہے مگر یہ غیر عورت کے لئے ہے جس لڑکی سے انسان شادی کرنا