گلشن احمد — Page 12
22 21 ساتھیوں کے ساتھ عقب سے حملہ کر کے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر پتھر لگا جس سے آپ کے دندانِ مبارک شہید ہوئے۔جاں نثار صحابہ نے آپ کے ارد گرد گھیرا ڈال لیا۔حضرت ابوطلحہ انصاریؒ ، حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت زیاد بن سکن ،خواتین میں سے حضرت ام عمارہ نے جرات و بہادری سے دفاع کیا۔اس جنگ میں خواتین نے نرسنگ اور پانی پلانے کا کام کیا۔جنگ اُحد میں ستر صحابہ شہید اور بہت سے زخمی ہوئے۔بچہ۔ہماری کتاب میں یہ واقعہ بھی درج ہے کہ اُحد کے میدان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی غلط خبر مدینے پہنچی تو ایک انصاری عورت بھاگتے ہوئے اُحد کے راستے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت پوچھتی جا رہی تھی بعض صحابہ نے اطلاع دی کہ تمہار باپ، بھائی اور خاوند سب اُحد کے معرکے میں شہید ہو گئے مگر وہ بے چین ہو کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتی رہی۔جب آپ کی خیریت کا علم ہوا تو بے اختیار کہا۔اگر آپ زندہ ہیں تو سب مصیبتیں بیچ ہیں۔میرا خیال ہے کہ جنگِ اُحد کے بعد مشرکین مکہ خود کو بڑا بہادر اور حوصلہ مند سمجھنے لگے ہوں گے۔ماں۔آپ ٹھیک سوچ رہے ہیں وہ مسلسل شرا تیں کرنے لگے غزوہ حمراء الاسد، سریہ ابوسلمہ ( یکم محرم 4 ہجری) سریہ ابنِ انیس (محرم چار ہجری) اور بنولحیان کی شرارت جیسے واقعات اسی خود سری کے نتیجے میں ہوئے۔ان میں سے واقعه رجیع کی کچھ تفصیل بتاتی ہوں۔ماہ صفر 4 ہجری (جولائی اگست 625ء) آپ نے عضل اور قارہ قبائل کو دین سکھانے کے لئے آدمی بھیجنے کی درخواست پر دس صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔یہ درخواست ایک چال تھی۔اس مقدس پارٹی کو بنو لحیان کے دوسو نو جوانوں نے گھیر کر شہید کر دیا۔اُن میں زید بن دشمنہ بھی تھے جن کو قتل کرتے ہوئے تلوار اُٹھا کر پوچھا گیا۔”سچ کہو کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ اس وقت تمہاری جگہ ہمارے ہاتھوں میں محمد ہوتے جسے ہم قتل کرتے اور تم بچ جاتے اور اپنے اہل و عیال میں خوشی کے دن گزارتے۔انہوں نے کہا۔” خدا کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرے بچنے کے عوض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چھے ، اور اس کے ساتھ ہی وہ شہید کر دیے گئے۔اس واقعہ کی طرح بئر معونہ میں صفر 4 ہجری میں ستر 70 قاری صحابہ کو دھو کے سے قتل کر دیا گیا۔ان میں سے صرف دو بیچ سکے۔" بچہ۔کیا اس وقت تک قرآن پاک صرف یاد کر کے محفوظ کیا جاتا تھا۔ماں۔حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ جب آپ پر کوئی وحی نازل ہوتی تھی تو آپ اپنے کاتبانِ وجی میں سے کسی کاتب وحی کو بلوا کر وہ وحی لکھوا دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ فرما دیتے تھے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں موقع پر رکھو۔اس طرح آپ خود ہی سورتوں کی ترتیب بھی فرما دیتے تھے۔“ ( ابو داؤد، ترمذی، مسند احمد بن حنبل) اس سے علم ہوا کہ قرآنِ پاک لکھا جا تا تھا۔یاد بھی کیا جاتا تھا اور خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ترتیب دیا۔کاتبان وحی کے نام یہ ہیں۔حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت زید بن ثابت حضرت زبیر بن العوام ، حضرت شرجیل بن حسنہ ، حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرغ، حضرت ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن رواحہ وغیرہ۔( سيرة خاتم النبيين ص 532) آگے چلنے سے پہلے اس سال کے چند اہم واقعات بتا دوں۔حضرت امام حسین شعبان 4 ہجری (جنوری 626 ء ) میں پیدا ہوئے۔وراثت کے احکام نازل ہوئے۔شراب کی ممانعت ہوئی۔