گلشن احمد

by Other Authors

Page 11 of 84

گلشن احمد — Page 11

20 19 پتے ایک چھا گل ، ایک مشک دو چکیاں اور مٹی کے دو گھڑے۔بچہ اتنی سادگی ! کیا اُس زمانے میں ہر شادی اتنی سادگی سے ہوتی تھی۔ماں۔ایک اور شادی کا حال سُن لیجئے ماہ شوال 2 ہجری میں مارچ ،اپریل 624ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم اور حضرت عائشہ صدیقہ کی شادی بھی سادگی سے ہوئی۔اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر تقریباً بارہ سال تھی (سیرۃ خاتم النبین ص 238) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پچپن سال تھی۔چار پانچ سو درہم حق مہر تھا جو نقد ادا کیا گیا۔حضرت عائشہ ذہین اور صاحب علم خاتون تھیں آپ سے دو ہزار دوسو احادیث مروی ہیں۔بچہ۔یہ بھی بتائیے کہ 2 ہجری میں صرف غزوہ بدرلڑی گئی۔ماں۔نہیں چھوٹے چھوٹے اور بھی غزوات ہوئے مثلاً قراقرۃ القدر،غزوہ سویق، اور غزوہ بنو قینقاع۔دراصل ہوا یہ کہ بہت بڑی شکست کی شرمندگی کفار مکہ کو چین نہیں لینے دے رہی تھی۔اور وہ بدر سے واپسی کے بعد ہی اگلی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔بچہ۔حسب معمول سب نے اپنے اپنے مقتولین کا بدلہ لینے کے لئے جوش انتقام میں اپنے مال اور اپنی جانیں پیش کر دی ہوں گی۔ماں۔جی ہاں ! مگر جنگ اُحد کے ذکر سے پہلے ایک خوشی کی خبر سُنا دوں۔رمضان 3 ہجری ( مطابق یکم مارچ 625 ) میں حضرت حسنؓ پیدا ہوئے۔آپ کی ساری اولاد میں سے حضرت فاطمہ سے آپ کی نسل چلی۔حضرت حسنؓ کی شکل اپنے نانا سے بہت مشابہ تھی۔بچہ۔آپ کا ذکر عام طور پر حضرت امام حسنؓ کے نام سے ہوتا ہے۔اب جنگ اُحد کے متعلق بتائیے۔دونوں طرف کیسا لشکر تھا۔ماں۔آپ کی دلچسپی سے مجھے خوشی ہو رہی ہے۔اُس وقت کی مردم شماری کے مطابق کل پندرہ سو مسلمان تھے۔کفار کی تعداد تین ہزار تھی جن میں سے سات سو زره پوش سپاہی شامل تھے۔ان کے پاس دو سو گھوڑے اور تین ہزار اونٹ تھے۔اُن کا سپہ سالار ابوسفیان تھا۔مسلمانوں میں قبیلہ اوس کا جھنڈا حضرت اسید بن قبیلہ خزرج کا جھنڈا حضرت خباب بن منذر اور مہاجرین کا جھنڈ ا حضرت علی کے سپرد کیا۔یہ جنگ شوال 3 ہجری 23 مارچ625ء) میں ہوئی۔ایک غدار اور منافق عبداللہ بن ابی سلول اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر علیحدہ ہو گیا۔اس طرح مسلمان صرف 700 رہ گئے۔ان میں ایک زرہ پوش اور دو گھڑ سوار تھے۔اُحد میں ایک پہاڑی درہ تھا جس پر پچاس تیرانداز حضرت عبداللہ بن جبیر کی سرکردگی میں متعین تھے۔آپ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے وہ الفاظ بتا سکتی ہیں جن میں اُن کو وہاں سے نہ ہٹنے کا ارشاد فرمایا تھا۔ماں۔آپ نے فرمایا تھا۔دیکھو دڑہ کسی صورت میں خالی نہ رہے حتی کہ اگر تم دیکھو کہ مسلمانوں کو شکست ہوگئی ہے اور دشمن ہم پر غالب آ گیا ہے تو پھر بھی تم اس جگہ سے نہ ہٹنا۔اگر دیکھو کہ پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں تو پھر بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ تمہیں یہاں سے ہٹ آنے کا حکم نہ آجائے۔“ بچہ۔یہ تو بڑے سخت لفظ ہیں اور اُن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی سوجھ بوجھ کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ کتنے ماہر جرنیل تھے۔ماں۔مگر جنگ کے بعد جب کفار کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے لگے تو دڑے میں متعین عبد اللہ بن جبیر اور ان کے پانچ ساتھیوں کے سوا سب نے درّہ خالی چھوڑ دیا جس پر خالد بن ولید نے اپنے