گلشن احمد

by Other Authors

Page 13 of 84

گلشن احمد — Page 13

24 23 بچہ۔اب ہم 5 ہجری میں داخل ہورہے ہیں۔ماں۔5 ہجری کا پہلا اہم واقعہ غزوہ مریسیع یا بنی المصطلق تھا جو شعبان میں ہوا۔جنگ احزاب یا غزوہ خندق شوال 5 ہجری (مطابق فروری ، مارچ 627) میں ہوئی۔حضرت سلمان فارسی کے مشورے سے مدینے کے غیر محفوظ علاقے کے سامنے لمبی اور گہری خندق کھودی گئی۔کفار نے ارد گرد کے قبائل کو ملا کر چوبیس ہزار کا لشکر تیار کیا۔جن کا امیر ابوسفیان بن حرب تھا۔عجیب نظارہ ہو گا مسلمان ٹکڑوں میں بٹ کر خندق کھود رہے ہوں گے۔کھودتے کھودتے ایک اڑیل پتھر پر ضربیں لگاتے ہوئے ایک ایک ضرب پر آپ کو شام ، فارس اور یمن کی گنجیاں دکھائی گئیں۔بچہ۔میں نے پڑھا ہے کہ سخت تنگی کا زمانہ تھا۔بھوک کی شدت روکنے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھ باندھ کر کام ہوتا تھا۔ایک صحابی حضرت جابر بن عبداللہ نے آپ کے چہرہ پر بھوک کی وجہ سے نقاہت محسوس کی تو گھر جا کر بیوی سے پوچھا کہ گھر میں کھانے کو کچھ ہے تو بیوی نے بتایا کہ ایک بکری کا بچہ اور تھوڑا سا جو کا آٹا ہے۔بیوی سے کہا تم کھانا تیار کرو اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر چپکے سے کھانے کی دعوت دی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم کو جب علم ہوا کہ کھانا کم ہے تو فرمایا تم جاؤ اور بیوی سے کہو کہ جب تک میں نہ آؤں ہنڈیا اتارو اور نہ روٹیاں پکانی شروع کرو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم نے دعا فرمائی کھانے میں برکت پیدا ہو گئی۔سب صحابہ کرام نے سیر ہو کر کھایا اور ابھی کھانا باقی تھا۔ماں۔سبحان اللہ۔یہ آپ نے ٹھیک بتایا کہ یہ دن سخت تنگی کے تھے۔سردی بہت تھی۔جنگ میں بہت شدت آگئی۔ایک موقع پر حضرت صفیہ نے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں بڑی بہادری دکھائی۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے شدید صلى الله آندھی آئی کفار ہیں دن کے محاصرے کے بعد بد دل ہو کر واپس چلے گئے۔اس موقع پر بنو قریظہ نے غداری کی تھی جنگ احزاب کے معاً بعد آنحضور ﷺ ان کی غداری کی سزا دینے کے لئے صحابہ کرام کو ساتھ لے کر تشریف لے گئے اوران کا زور توڑا۔اسی سال 5 ہجری میں مسلمان عورتوں کے لئے پردے کا حکم نازل ہوا۔اب میں آپ کو صلح حدیبیہ کے متعلق بتاؤں گی۔بچہ۔یہ 6 ہجری کا واقعہ ہے۔ماں۔جی۔مسلمانوں کو مکہ سے بے حد پیار تھا۔مکہ ان کا وطن تھا بعض خاندان بٹ گئے تھے۔مکہ میں حج ہوتا ہے۔ان سب باتوں کی وجہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو اصحاب عمرے کا احرام باندھ کر مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔کفار مکہ کو علم ہوا تو سخت طیش میں آگئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم نے پیغام بھجوائے کہ صلح کرنا اچھی بات ہے۔مگر آپ کے پیغام رسانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کیا گیا۔حتی کہ جب حضرت عثمان کو بھیجا تو یہ افواہ پھیلی کہ اُن کو شہید کر دیا گیا ہے۔آپ نے سب صحابہ سے ایک درخت کے نیچے جاں نثاری کی بیعت لی۔اس کو بیعت رضوان کہتے ہیں۔اس موقع پر آخر کار صلح ہوئی مگر اس شرط پر کہ اس سال کی بجائے آپ آئندہ سال آئیں۔یہ صلح حدیبیہ کے مقام پر ہونے کی وجہ سے صلح حدیبیہ کہلاتی ہے۔بچہ۔صلح حدیبیہ کی اور شرطیں کیا تھیں۔ماں۔اگلے سال آئیں اور صرف تین دن کے لئے وہ بھی بغیر ہتھیاروں کے۔مکہ میں مقیم کوئی مسلمان مدینہ ساتھ نہ جا سکے گا اور کوئی مکہ میں رہنا چاہے تو رہ سکتا ہے۔کافروں یا مسلمانوں میں سے کوئی مدینہ جائے تو وہ واپس کر دیا جائے لیکن اگر کوئی کافر مسلمان مکہ جائے تو واپس نہیں کیا جائے گا۔