گلشن احمد

by Other Authors

Page 7 of 84

گلشن احمد — Page 7

12 11 کہ اس کا تعلق عظیم خدا سے ہے۔اَلْغَفُورُ : - سب بخشنے والا۔سب سے زیادہ معاف کرنے والا۔انسان خطا کا پتلا ہے۔بیچنے کی پوری کوشش کے باوجود غلطیاں ہو جاتی ہیں۔اس لئے ہر وقت خدا تعالیٰ کی بخشش مانگنی چاہیے۔اس کا احسان ہے کہ وہ معاف بھی کر دیتا ہے۔پس انسان بھی معاف کر دیا کریں۔اَلْحَسِيبُ : - حساب لینے والا۔روزِ قیامت بندوں کا حساب لینے والا۔ہر حال میں مدد کرنے والا محتاجوں کی حاجت پوری کرنے والا۔انسان ہر وقت اپنا حساب لیتا رہے کہ اعمال کے بینک میں کیا ڈالا ہے۔اَلْكَرِيمُ : معزز عزت والا مہربان ، نیک سلوک کرنے والا۔اپنے فضل سے گناہ بخشنے والا۔حسنِ سلوک کرنے والا۔محترم مکرم ،ساری عزتوں کا مالک۔انسان بھی اگر عزت چاہتا ہے تو اپنے کریم خدا کی صفات پر غور کرے اور اُن پر عمل کرے۔الْحَكِيمُ : - موقعہ کے مطابق کام کرنے والا۔چھپے ہوئے بھید جاننے والا۔ہر کام مصلحت پر مبنی کرنے والا۔کبھی پیار کرنے والا۔کبھی سزا دینے والا۔مگر ہر بات کے پیچھے حکمت مصلحت اور فضل کا پہلو ہوتا ہے۔جو انسان سے مخفی مگر خدا کے علم میں ہوتا ہے۔اس لئے قسمت پر شکوہ یا خدا تعالیٰ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔اَلْوَدُودُ : محبت کرنے والا۔اپنی محبت رکھنے والوں کا دوست۔اپنے ماننے والوں پر مہربان۔اُن کے دل میں اپنی محبت پیدا کرنے والا۔انسان بھی ” محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں “ پر عمل کریں۔المَجِيدُ : - بزرگ ، شریف، عزت والا ، اونچی شان والا ، ساری عزتوں کے قابل۔اس کی ذات بھی بزرگ اس کے کام بھی بزرگ۔اس خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے کسی دوسری طاقت کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں اور عزت نفس کا خیال رکھیں۔اَلْحَمِيدُ : تعریف کرنے والا ، اپنی ذات اور صفات کی اور وہ جس کی تعریف کی جائے۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے شکر ادا کرنے سے بہت خوش ہوتا ہے۔قرآنِ پاک کی ابتدائی آیت ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين - اَلْوَاحِدُ : - اکیلا، یکتا ، یگانہ، لا شریک، بے ہمتا۔خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔مگر زبان سے اقرار کے بعد دوسری طاقتوں سے مدد چاہنا بہت گناہ ہے۔شرک کی بہت سی قسمیں ہیں۔ہر ایک کو جان کر پر ہیز کرنا لازم ہے۔الصَّمَدُ : - کسی کا محتاج نہیں۔اس کے سب محتاج ہیں۔بے پرواہ غنی اُسے ہماری عبادات کی ضرورت نہیں۔ہمیں اُس کے رحم کی ضرورت ہے۔ہم اس کی تعریف کر کے بندگی کے حقوق ادا کر کے کوئی احسان نہیں کرتے۔دنیا کی ہر چیز اس کی عبادت میں ہمہ وقت مصروف ہے۔الْوَالِي : - مالک ، دوست ، کام آنے والا ، مولا ، وارث۔اس سے بہتر کوئی مالک نہیں ہوسکتا۔جو تمام جہانوں کا رب ہے۔اس کی کفالت میں آنے کے بعد کسی اور کی محتاجی نہیں رہتی۔الْقَادِرُ : - قدرت والا ظاہر کرنے والا۔وہ ایسے کام بھی کر سکتا ہے جو انسانوں کو بظاہر ناممکن لگے۔اُس کی عقل میں نہ آئے۔خدا تعالیٰ ایسے طریق پر کام کرتا ہے انسان دنگ رہ جاتا ہے مثلاً غار ثور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت۔مکہ واپس لانا۔قاتلانہ حملوں سے بچانا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے بچانا۔النور : - روشن، روشن کرنے والا۔خدا تعالیٰ ایک قسم کا نور ہے جو اس کی