گلشن احمد — Page 6
10 9 اُس کو پہچاننا اور سچا ایمان اُس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اس سے تعلق پیدا کرنا۔اور سچی برکات اس سے پانا۔“ (اربعین، روحانی خزائن جلد 17 ص 344-345) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں :- ا بار بار خدا تعالیٰ کا ذکر کرو تا کہ اُس کی محبت تمہارے رگ وریشہ میں سرایت کر جائے۔خدا تعالیٰ ایک وراء الوریٰ ہستی ہے اس کا حسن براہِ راست انسان کے سامنے نہیں آتا بلکہ کئی واسطوں کے ذریعوں سے آتا ہے اگر اُس کے حسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے اور پھر ہم اُس پر غور کریں اور سوچیں تو آہستہ آہستہ معنوی طور پر اس کی شکل ہمارے سامنے آجاتی ہے اگر تم مالک کا نام لو اور اس کی مالکیت کو ذہن میں لاؤ۔قدوس کا نام لو اور اُس کی قدوسیت کو ذہن میں لاؤ۔ستار کا نام لو اور اس کی ستاریت کو ذہن میں لاؤ، غفور کا نام لو اور اُس کی غفوریت کو ذہن میں لاؤ تو یہ لازمی بات ہے کہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کی ایک مکمل تصویر سامنے آ جائے گی اور محبت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ یا تو کسی کا وجود سامنے ہو یا اس کی تصویر سامنے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک شعر میں اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔؎ دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی ( تفسیر کبیر جلد دوم ص 444) اسمائے الہی ہم نے اللہ تعالیٰ کے ناموں اور کاموں کو سمجھنے کے بہت مختصر اشارے دئے ہیں ان پر غور کرتے رہیں گے تو خدا تعالیٰ کی ہستی کو جاننے کے بہت سے راستے کھلیں گے۔ان بابرکت ناموں کو زبانی یاد کر لیں اور ہر وقت یہ التجا کرتے رہیں۔اے خدا ہم تجھ سے تیری محبت مانگتے ہیں۔آمین یا رب العالمین۔السَّمِيعُ : سُننے والا۔خدا تعالیٰ کو سننے کے لئے انسان کی طرح کان اور ہوا کی لہروں کی ضرورت نہیں وہ دل کی مانگی ہوئی دُعا بھی سنتا ہے۔پہلے بھی سنتا تھا۔اب بھی سنتا ہے۔صرف ہماری پکار میں درد اور خلوص چاہیے انسان اپنی سُننے کی طاقت کو اچھی باتیں سننے میں استعمال کرے اللَّطِيفُ : - باریک بین۔وہ ہر چیز کو قریب ہو یا ڈور بڑی باریک بینی سے دیکھتا ہے۔اور جہاں اُسے نیک خیال اور نیک عمل ملتا ہے اُسے پسند کرتا ہے۔اس کا اجر دیتا ہے۔دُنیا میں تو ایسا ہوسکتا ہے۔اچھا کا م کوئی کرے اور انعام کسی اور کو مل جائے۔مگر خدا تعالیٰ کے ہاں ایسا ناممکن ہے۔الْخَبِيرُ :- سب چیزوں سے آگاہ۔ہر بات سے واقف۔دلوں کی باتوں کو جان لینے والا۔اس کے سامنے کوئی بات بنا کر پیش نہیں کی جاسکتی۔اس لئے عام انسانوں کے سامنے بھی سیدھی صاف کھری بات کہی جائے۔اور دل میں بھی برائی کو جگہ نہ دی جائے۔۔العظيم : - بزرگ ، برتر، بلند مرتبہ، اونچی صفات کا۔انسانی سمجھ اور عقل سے بالا تر۔انسان کو چاہیے کہ وہ کسی دنیاوی طاقت کے آگے نہ جھکے۔اس لئے