گلشن احمد

by Other Authors

Page 8 of 84

گلشن احمد — Page 8

14 13 باتیں مانتا ہے۔اُن کو بھی اس نور سے حصہ ملتا ہے۔اُن کے دل عرفان سے منور ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے اس نور کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لئے دُعا کرنی چاہیے۔وہ زمین و آسمان کا نور ہے۔ایمان و معرفت کا نور ہے۔اَلرَّءُ وُفٌ : - مہربان محبت کرنے والا۔دلوں میں محبت پیدا کرنے والا۔حسب موقع پیار کرنے والا۔وہ مومنوں سے بھی چاہتا ہے کہ وہ آپس میں مہربانی کرنے والے ہوں اور متحد و منتظم ہوں۔بے غرض سلوک کریں۔اور خدا کے سوا کسی سے نہ مانگیں۔اَلصَّبُورُ : - صبر کرنے والا۔حلیم، برد بار سزا دینے میں جلدی نہ کرنے والا۔انسان بھی کسی غلطی پر جلدی طیش میں نہ آئے بلکہ صبر کرے اور اصلاح کا موقع دے۔الْهَادِى : - راہ دکھانے والا۔صرف وہی اپنے پانے کا راستہ دکھا سکتا ہے پہلے اُس نے دین فطرت پیدا کیا پھر انبیاء اور پھر شریعت عطا فرمائی۔پھر مجددین اور مہدی بھیجے۔اور انسان کو پیغام دیا کہ اگر مجھے تلاش کرو گے تو میں خود تمہیں راہ سمجھاؤں گا۔ذُو الجَلَال وَالِاكْرَام: - بزرگی والا اور معزز اور بخشنے والا اور عظیم ترین ہونے کے ساتھ مہربان ترین بھی ہے اس کے جلال کی ایک شان ہے۔ایک رُعب ہے۔جس کا کچھ حصہ مومنین کو بھی دیا گیا اور دور اول میں کفار پر رعب پڑا پھر اُن کو اخلاق کریمانہ دیے گئے جنہوں نے دل جیت لئے۔رسالت (مدنی زندگی) ماں۔اب ہم مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے بات شروع کرتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کا پہلا پڑاؤ قبا کے مقام پر تھا۔بچہ۔قبا مدینہ سے کتنے فاصلے پر ہے۔ماں۔اصل شہر سے دو اڑھائی میل کے فاصلے پر ہے۔آپ کی آمد کی خبر کے ساتھ جوشِ اشتیاق سے مسلمان آپ کی عارضی قیام گاہ کلثوم بن الہدم کے مکان پہنچنے لگے یہ 20 ستمبر 622ء پیر کا دن ربیع الاول 14 نبوی کی 12 تاریخ تھی۔یہاں پر آپ ﷺ کا سفر ہجرت مکمل ہوا۔اسی سال محرم سے سن ہجری کا آغاز ہوا۔(سیرت خاتم النبین ) اگلے دن آپ ﷺ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔دس دن قبا میں قیام کے بعد مدینہ روانہ ہوئے۔راستے میں آپ ﷺ نے پہلی نماز جمعہ ادا کی۔گے۔صلى الله مدینہ کے لوگ تو بہت خوش ہوں گے بلکہ خوشی سے جھوم رہے ہوں ماں۔بالکل گلی گلی میں بچے گاتے پھر رہے تھے ” محمد آ گئے، خدا کے رسول آ گئے۔بچیاں دف بجا بجا کر خوشی کے گیت گا رہی تھیں۔طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثنيات الوداع وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلَّهِ دَاع چلتے چلتے آپ کی اوٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان کے قریب ٹھہری۔آپ نے اُن کے گھر میں قیام فرمایا اور جہاں اونٹنی بیٹھی تھی اُس