گلشن احمد

by Other Authors

Page 42 of 84

گلشن احمد — Page 42

82 81 1935ء میں آپ کی شادی حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل" سے ہوئی۔آپ کو ایک لڑکی صاحبزادی امتہ المتین عطا ہوئی۔1944ء میں حضرت سیّدہ بشری بیگم مہر آپا بنت حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب سے آپ کی شادی ہوئی۔آپ کے عہد خلافت میں احمدیت کی ترقی کی تاریخ کو اختصار سے سمیٹا نہیں جاسکتا۔ربوہ کا قیام ایک مثال ہے۔1947ء میں تقسیم برصغیر کے موقع پر جب قادیان کی مقدس بستی ہندوستان میں شامل کر دی گئی۔آپ نے فیصلہ فرمایا کہ حفاظت مراکز کے لئے کچھ احمدی قادیان میں رکیں اور باقی اجتماعی طور پر پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔پاکستان میں احمدیوں کو ایک مرکز پر مجتمع رکھنے کے لئے الہی بشارت اور دُعاؤں کے ساتھ نیا مرکز ربوہ آباد کیا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اولوالعزم کا نام دیا تھا۔ربوہ کی پیاری بستی آپ کے عزم و ہمت کا نشان ہے۔1954 ء میں ایک حملہ آور نے آپ پر چاقو کا وار کیا گردن پر گہرا زخم آیا جس کے اثرات سے آپ علیل رہنے لگے۔اگر چہ اس علالت میں بھی جماعتی کاموں میں مصروف رہے۔تاہم کمزوری بڑھتی گئی اور آخر 8 نومبر 1965ء کی رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرزان دلبند گرامی ارجمند اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گیا۔ملت کے اس فدائی پر رحمت خدا کرے حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے پوتے حضرت مصلح موعود( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) کے پہلے بیٹے اور جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ 16 نومبر 1909ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ کی ذات بابرکات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے سے خوشخبریاں دی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔وَ بَشْرَنِي بِخَامِسَ فِي حِينٍ مِّنَ الْأَحْيَانِ یعنی پانچواں لڑکا جو چار کے علاوہ بطور نافلہ پیدا ہونے والا تھا اس کی خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ کسی وقت ضرور پیدا ہو گا۔إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ نَافِلَةَ لَّكَ نَافِلَةً مِّنْ عِندِي یعنی ہم ایک اور لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں کہ وہ نافلہ ہو گا یعنی لڑکے کا لڑکا یہ نافلہ ہماری ہی طرف سے 66 ہے۔