گلشن احمد

by Other Authors

Page 41 of 84

گلشن احمد — Page 41

80 79 66 اللہ تعالیٰ مجھے پر راضی ہو جائے اور میرا خاتمہ رسول اللہ کے دین کے قیام کی کوشش پر ہو۔“ (الموعودص 53 تا70) پیشگوئی پوری ہونے کی خوشی میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی۔حضرت مسیح موعود کی گریہ وزاری اور عاجزانہ دعاؤں کا جواب آیا تھا۔اللہ نے اپنی رحمت و قربت کا نشان دکھایا تھا۔وہ مخالفین جو پیشگوئی کا مذاق اُڑاتے تھے کھیا کر رہ گئے۔حق اپنی پوری تا بنا کی کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔اس خوشی میں بعض اہم مقامات پر عام جلسے منعقد ہوئے۔20 فروری 1944ء کو ہوشیار پور 12 مارچ 1944 ء کو لاہور 23 مارچ 1944 ء کو لدھیانہ 14 اپریل 1944ء کو دہلی ان جلسوں میں خاص طور پر بیرونی ممالک میں دعوت الی اللہ کرنے والے خوش نصیب اپنے تجربات بیان کرتے حضرت مصلح موعود اپنی تقاریر کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت اور قرآنی دُعاؤں سے فرماتے تھے۔جس سے سوز و رقت کے عجیب ایمان افروز نظارے ہوتے۔آپ کے عہد مبارک میں بیرونی ممالک میں 25 نئے احمد یہ مراکز قائم ہوئے ترقی پذیر جماعت کا سر براہ اپنی جماعت کے ہر حصے کو ساتھ لے کر آگے بڑھتا۔حضرت مصلح موعود کا یہ نظریہ تھا کہ اگر پچاس فیصد عورتوں کی اصلاح ہو جائے تو جماعت ترقی کرے گی۔اس لئے آپ نے لڑکیوں کا اسکول اور کالج کھولا دینی تعلیم کے لئے مدرستہ الخواتین قائم فرمایا۔جس میں شروع میں خود بھی پڑھاتے رہے تھے۔خواتین کی تنظیم لجنہ اماء اللہ اور بچیوں کی ناصرات الاحمدیہ قائم فرمائی۔خواتین کی تربیت و اصلاح کے خیال سے آپ اپنی بیویوں کی خاص طور پر تربیت فرماتے تھے تا کہ خواتین کی اصلاح کا دائرہ وسیع ہوتا جائے۔ان ازواج مبارکہ کے ذریعے اللہ پاک کے مسیح موعود کی نسل اور نفوس میں برکت دینے کے وعدے بھی پورے ہوئے۔1902ء میں آپ کی پہلی شادی محمودہ بیگم (حضرت ام ناصر ) بنت حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سے ہوئی۔آپ کو سات لڑکے اور دولڑکیاں عطا ہوئیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر خلیفة أسبح الثالث صاحبزادہ مرزا مبارک احمد ، صاحبزادہ مرزا منور احمد ،صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد ،صاحبزادہ مرزا انور احمد ، صاحبزادہ مرزا اظہر احمد، صاحبزادہ مرزا رفیق احمد، صاحبزادی ناصرہ بیگم، صاحبزادی امتہ العزیز بیگم۔1914ء میں آپ کی شادی حضرت سیدہ امتہ الحئی بنت حضرت خلیفۃ المسح الاول سے ہوئی۔آپ کو ایک لڑکا ، دولڑکیاں عطا ہوئیں۔صاحبزادہ مرزا خلیل احمد ، صاحبزادی امتہ القیوم اور صاحبزادی امۃ الرشید۔1921ء میں آپ کی شادی حضرت سیدہ مریم بیگم بنت حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ سے ہوئی۔آپ کو ایک لڑکا اور تین لڑکیاں عطا ہوئیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ ایسیح الرابع ،صاحبزادی امتہ الحکیم، صاحبزادی امتہ الباسط ، صاحبزادی امتہ الجمیل۔1925ء میں آپ کی شادی حضرت سیده ساره بیگم بنت حضرت مولوی عبدالماجد بھا گلپوری سے ہوئی۔ان کے بطن سے آپ کو دولڑ کے اور ایک لڑکی عطا ہوئی۔صاحبزادہ مرزا رفیع احمد ، صاحبزادہ مرزا حنیف احمد،صاحبزادی امتہ النصير 1926ء میں آپ کی شادی حضرت عزیزہ بیگم بنت سیٹھ ابوبکر یوسف صاحب سے ہوئی۔آپ کو دولڑ کے عطا ہوئے۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد اور صاحبزادہ مرزا نعیم احمد۔