گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 4 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 4

کار لائیں ہمارا مطمح نظر یہ ہونا چاہئے کہ ہم تقوی کے لباس میں خود کو ملبوس کر لیں اور ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس چیز کو زندگی کا منتہائے مقصود نالے بعض لوگ اپنی خفیہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے پیشوں میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ان کی کامیابیوں نے پوری دنیا سے داد تحسین حاصل کی ہے اور ان کے نام دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ریکارڈ ہو گئے مگر سب سے عظیم انسان تو ایسے لوگ ہیں جنکی تعریف خدا نے خود کی ہو نیز حقیقی مسرت پانے والے لوگ تو وہ ہیں جو خدا کی خوشی اور اسکی رضا کی خاطر زندہ رہتے ہیں اور جنت کے میٹھے مشروبات کا نا قابل بیان مزہ انہوں نے نہ صرف اس دنیا میں پالیا بل کہ آنے والی زندگی میں بھی پائیں گے ان افراد کے نام زندگی کی کتاب میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے آنیوالی زندگی اتنی ہی حقیقی اور سچی ہے جتنی موجودہ زندگی یقینی ہے اس بارے میں کسی مسلمان کے ذہن میں کوئی ذرہ بھر بھی شک نہیں ہونا چاہیے۔قرآن اس موضوع پر آیات کریمہ سے پھر اہوا ہے وَمَا الحیوۃ الدنیا الأَلَعِبُ وَلَهْو وَلَلَدَارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ (سورة ۳۳:۲) دنیوی زندگی بجز لہو و لعب کے کچھ بھی نہیں ہے اور آنے والا گھر عقل مندوں کے لئے لازما بہتر ہے۔ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے يُقَومِ اِنْمَا ہٰذِهِ لحَيُوةَ الدَّنْيَا مَتَاعُ وَإِن الْأَخِرَةَ هِيَ دَارَ لقرار المومن) (۴۰:۴۰) اے بھا ئیو یہ دنیوی زندگی محض چند روزہ ہے اور اصل مقام تو آخرت کا گھر ہے۔پھر اس آیت کریمہ پر غور فرمائیں وَالآخِرَةِ خَيْرٌ وَ ابقی - پاره ۷ ۸ آیت (۱۸) آخرت کی زندگی (دنیا سے) بدرجہا بہتر ہے آخرت کی زندگی در حقیقت اعلیٰ درجہ کی زندگی ہے اور اس کی تیاری کیلئے اپنی روح تیار رکھنا ہمارا فرض ہے اس امر کو ہم بلکل نظر انداز نہیں کر سکتے یہ زندگی تو گویا نقش بر آب کی طرح فانی ہے