گلدستہٴ خیال — Page 3
الله الرحمن الرحيم زندگی کا مطمح نظر قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے :۔يَا أَيْنَهَا النفس المُطْمَئِنَةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكَ رَا ضِيتَهُ مَرَضِيَة ه فا د خَلِي فِي عِبَادِى، وَادْخُلِي جَنَّتِي ترجمہ۔اے اطمینان والی روح تو اپنے پروردگار (کے جوار رحمت) کی طرف چلی آ کہ تو اس ذات باری تعالیٰ سے خوش اور وہ تجھ سے خوش پھر تو میرے خاص بندوں میں شامل ہو جالور میری جنت میں داخل ہو جا ( الفجر ۲۸ تا ۳۱) قارئین وقت کیا ہے ؟ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ آتا ہے اور چلا جاتا ہے جوں جوں ہم بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ زندگی صرف ایک روزہ تجربہ ہے جبکہ لحد ہم سب کا بے تالی سے انتظار کر رہی ہے کہا جاتا ہے کہ انسان کی اوسط عمر ستر سال ہوتی ہے دنیا کے بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں انسان صرف تمہیں سال سے کچھ زیادہ زندہ رہتے ہیں بالفرض انسان ایک سو سال زندہ رہے پھر بھی کائینات کی عمر کی نسبت یہ صرف ایک لمحہ محسوس ہوتا ہے بیئت دان ہمیں بتلاتے ہیں کہ روشنی دور ترین کہکشاؤں سے ایک ہزار مین سال میں یہاں پہنچتی ہے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کائینات کو بنے ہوئے قریب قریب پانچ ہزار ملین سال ہوئے ہیں خطہ زمین پر بے چارے انسان کو یہاں رہنے کے لئے بہت کم وقت ملا ہے اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم زندگی کے مطمح نظر کو حاصل کرنے کے لئے تمام توانائیاں اور کو ششیں مرکوز کر دیں۔اللہ تبارک و تعالی قرآن کریم میں فرماتے ہیں وَمَا خَلَقَتُ الجِنَّ وَالإِنسَ الا لِيَعْبُدُونَ (سوره ۵۱۰ آیت (۵۷) حقیقی عبادت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم خدائے تعالیٰ کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کردیں اور اس ذات باری تعالی کی شان کی بڑائی میں تمام صلاحیتوں کو بروئے