گلدستہٴ خیال — Page 83
۸۳ زندگی کے ہر موڑ پر چا ہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی ان کو خدا کا طاقت ورہاتھ نظر آیا جس نئی زندگی میں اب وہ رہنے لگے تھے وہ خدا کی برکات والی زندگی سے بھری زندگی کا نشان تھا جبکہ انکے ساتھی شہریوں کا کفران کے راندہ درگاہ ہونے کی نشانی تھا محمد ان کے لئے اب زندگی کا کارپرداز تھا اب خدا انکی امیدوں کا سر چشمہ اور اس کے آگے انہوں نے خود کو مکمل طور پر دست بردار کردیا تها۔آنحضرت مولہ کی حیات طیبہ بہت ہی بابرکت اور اعلیٰ پایہ کی تھی آپ خالق کائینات سے مستقل مکالمہ فرماتے تھے اور آپ کی زندگی میں ہر منٹ اور ہر سیکنڈ خدا کی صفات کا ظہور ہو تا تھا آپ نے مردوں کو زندگی بخشی گناہ گاروں کو ولی اللہ بنایا ایک مشرک اور روبہ تنزل قوم میں آپ نے روحانی انقلاب بر پا کر دیا نہ صرف یہ بلکہ آپنے انکی ذاتی چال چلن میں بھی انقلاب بر پا کر دیا۔آپ ﷺ کے آسمانی عطر کی حکمت کس قدر شیریں تھی اسکی ستائش بانی جماعت احمد یہ حضرت میرزا غلام احمد صاحب نے اپنی ایک نظم میں یوں کی ہے : عجب نوریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد ندانم هیچ نفسی در دو عالم که دارد شوکت و شان محمد اگر خواهی نجات از مستی، نفس بیا در ذیل مستان محمد اگر خواهی که حق گوید ثنایت بشو از دل ثنا خوان محمد اگر خواهی دلیلی عاشقش باش محمد هست برهان محمد دلم هر وقت قربان محمد بیاد حسن و احسان محمد که دیدم حسن پنهان محمد که خواندم در دبستان محمد سرے احمد دارم فدائے خاك بسی سهل از دنیا بریدن فدا شد در رهش ذره من دگر استاد را نامی ندانم