گلدستہٴ خیال — Page 82
۸۲ خلوص سے قدم رنجہ ہوتے کہ راہ جاتا آپ کو مڑ کر دیکھتا اور آپ کی طرف اشارہ کر کے کہتا رہ جاتا ہے الا مین اور صادق۔آپ ایک مخلص دوست اور خاوند تھے ایک مفکر جو زندگی دموت کے اسرار نیز انسانیت کے انجام اور انسان کے اعمال کا انجام جانئے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض جاننے میں ڈوبا ہوا تھا۔ایسا انسان جس کو ایک قوم کی اصلاح نہیں بلکہ پوری دنیا کی اصلاح کا بیڑا اٹھا نے کے لئے مامور کیا گیا اس بو جھل کام کے لئے اور اسکو سکون و راحت دینے کے لئے صرف پیار بھرا دل ملا تھا۔آپ کو دھوکا دیا گیا مگر لڑ کھڑائے نہیں آپ ہارے مگر مایوس نہ ہوئے آپ ایک نا قابل تسخیر روح کے ساتھ اس کام کو سر انجام دینے لگے جو آپ کو تفویض کیا گیا تھا۔آپ کے کردار میں خلوص اور شرافت خدا کی رحمیت پر آپ کے یقین کامل کہ وجہ سے بہت سے نیک دل لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور جب کڑی آزمائش کا وقت آیا تو ایک چابکدست جہازراں کی طرح آپ اپنے مقام پر جمے رہے تا آں کہ آپ کے تمام ساتھی ساحل پر بفریت پہنچ گئے آپ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں۔پھر ہم آپ (مسلم) کو انسانوں کا حکمراں۔انسانی دلوں پر حکومت کرنے والا۔اور چیف قانون دان۔سپریم مجسٹریٹ کے روپ میں پاتے ہیں مگر آپ میں خود ستائی کی جائے عاجزی اور انکساری نظر آتی ہے آپ (مسلم) کی زندگی کی تاریخ اس لحہ کے بعد اس کا من ویلتھ میں مدغم ہو گئی جس کے آپ محور تھے۔آج کے بعد وہ مبلغ جو اپنے ہاتھ سے جوتے گانٹھا کرتا تھا اپنے کپڑے سیا کرتا تھا اور جس نے کئی پھر کھانے کے بغیر گزار دئے وہ اب روئے زمین کے بڑے بڑے طاقت ور حکمرانوں سے زیادہ طاقت در تھا ( سپرٹ آف اسلام ) سرولیم میور انیسویں صدی کا مستشرق اور عیسائی مناد تھا وہ اپنی کتاب لا کف آف محمد میں کہتا ہے : ان (عربوں) کا مذہب بت پرستی سے بھرپور تھا انکا عقیده اومام پرست اور غیر مرئی چیزوں پر تھا ان غیر مرئی چیزوں سے یہ مدد طلب کرتے تھے اور انکی غیر خوشنودی سے اجتناب کرتے بجائے اس کے کہ ایک حاکم خدا پریقین رکھتے۔پھر بجا ئے اس کے کہ آنیوالی زندگی اور اچھائی اور نیکی ان کے عمال کا اصل محرک ہوتے یہ۔انکو معلوم نہ تھی۔ہجرت سے تیرہ سال قبل اس غیر معروف علاقه جان شهر تها مگران تیرہ سالوں میں اس شہر کیا خوشکن تبدیلی آئی صدیوں افراد کے گروہ نے بت پرستى ترك كردى خدا نے واحد کی عبادت کے گرویدہ ہو کر انہوں نے اپنے آپ کو خدا سے نازل ہونے والی کتاب کے آگے خود کو پورے یقین سے سونپ دیا یہ لوگ خدا کے آگے پوری رغبت اور گرم جوشی سے بار بار دعا گو ہونے لگے اس کی رحمت کے طالب ہونے اور نیکی کی راہ پر چلنے کی سعی کرنے لگے اب وہ ایک تہار اور غیور خدا کے سایہ رہنے لگے وہ خدا انکی چھوٹی چھوٹی فکروں کا خیال رکھنے لگا فطرت کے ہر تھنہ میں زندگی کے ہر رشتہ میں