گلدستہٴ خیال — Page 84
۸۴ نیک کاموں میں مستقل مزاجی کے اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں : للذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةً - وَلَا يَرهَقَ وَجُوبُهُم فَتَرَ وَلَا ذِلَةٌ أُولِثَكَ أَصحَبُ الجَنَّتِهِ هُم فِيهَا خَالِدون ( سورة ۱۰ آیت ۲۷) ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکو کاری کی بہترین انجام ہو گا اور اس پر مزید ( انعامات بھی)۔ان کے چہروں پر نہ غبار چھائے گا اور نہ ذلت ( کے آثار ہوں گے ) یہ لوگ جنت کے مکین ہیں (اور) اس میں رہتے چلے جائیں گے مذہب فی الواقعہ نیک طریقہ زندگی کا عملی نام ہے تمام مذاہب نے نیک زندگی اور عادات و اطوار اپنانے پر زور دیا ہے مذہب بغیر نیک اعمال کے مردہ چیز ہے بائیبل میں درج ہے اے خدا مری موت نیکو کاروں کی ہو اور میرا انجام بھی ایسا ہو (نمبرز 23:10) حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو تقویٰ کی زندگی بسر کرنیکی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :بابرکت ہیں وہ لوگ جو تقویٰ اور پارسائی کے حصول کیلئے بھوکے پیاسے کی طرح تڑپتے ہیں۔پھر قرآن مجید میں ہر مسلمان کو یہ دعا بار بار پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے اهْدِنَا الصِرَاطَ لِمُسْتَقِيمَ ، صِرَاطَ الذين أنعَمتَ عَلَيْهِم غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيْهِم وَلَا الضَّالِينه لاریب تقویٰ اور پارسائی کا راستہ ایک آسان راستہ نہیں ہے یہ پھسلنے والا اور بلندی کی طرف چڑھنے والا مشکل راستہ ہے اس پر پھسلنا بہت آسان بات ہے لیکن خوشکن اور روح افزا سفر جو جنت نظیر مقامات کے دلکش مناظر میں سے گزرتا ہے اس جادہ پر ترقی کر ہے یہ نیکے لئے صبر اور ثابت قدمی کا ہونا لازمی امر ہے جس طرح دنیوی امور بھی بغیر کسی کوشش کے ثمر آور نہیں ہوتے اسی طرح یہ مقولہ اخلاقی نمود پر بھی پوری طرح لاگو ہوتا ہے بغیر تکلیف کے سبقت لے جانا لا محال ہے مذہب ایک شرط یہ لگاتا ہے کہ ہم خدا کے راستہ میں سبقت لے جانے کے لئے پورا جتن کریں اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور اسکی نصرت و حفاظت