گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 54 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 54

۵۴ والے ہیں جس شخص کے دل میں عداوت اور کینہ کے برے جذبات ہوں گے اس کو اطمینان قلب حاصل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی خدا کی محبت اس کے دل میں جلوہ گر ہو گی انسان کو دعا کے ذریعہ نیز عمدہ مثبت سوچ کے ذریعہ ذہن سے درج ذیل برے احساسات نکال پھینکنے چاہئیں حسد نفرت۔کڑواہٹ۔ناراضگی۔انتقام۔غیر اخوت۔تمسخر۔گستاخی۔طنز۔ہتک۔نیز ایسے ہی اور احساسات جو زہر قاتل ہیں۔یہ چیزیں ہمیں خدا سے لو لگانے سے روکتی ہیں نیز یہ ہمیں اپنے دل کی Spring Cleaning بھی نہیں کرنے دیتیں ہیں ہے۔نیک اور صاف دل خدا کا گھر ہوتا ہے گویا انسان کے لئے دنیا میں ہی جنت کا سماں ہوتا بہشت کی یہی تعریف قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنْتِ وَعُيونِ ادخلُوهَا بِسلم آمِنِينَ - وَنَزَعْنَا مَا فِي صَدُورِهِم مِنْ غِلِ إِخْوَا نَّا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقْبِلِين ( الحجر ۱۵ آیت ۴۶ تا ۴۸) بے شک متقی (لوگ) یقیناً باغوں اور چشموں والے مقام) میں داخل ہوں گے انہیں کہا جائیگا کہ تم سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر ) ان میں داخل ہو جاؤ۔اور ان کے سینوں میں جو کینہ (وغیرہ) ہو گا اسے ہم نکال دیں گے وہ بھائی بھائی بن کر (جنت میں رہیں گے اور ) تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ( بیٹھے ) ہوں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عالی شان کردار کی تصویر مندرجہ ذیل اقتباس میں کھینچی گئی ہے۔مجھے اپنے جذبات پر اس قدر قا بو ہے کہ اگر ایک شخص گندی زبان میں مجھے رہے ایک سال تک برا بھلا کہتا تو بلآخر اسکو شرم محسوس ہوگی اور اسے ماننا پڑے گا کہ وہ مجھے ذرا بھی جادہ، استقامت سے ہٹا نہیں سکا۔۔۔۔۔(کتاب حضرت مسیح موعود کا سوانحی خاکہ) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو حضرت احمد علیہ السلام کے ایک بزرگ صحافی تھے انہوں نے آپ کے صبر اور عفو و در گزر کے بارہ میں لکھا ہے جو آپنے اپنے دشمنوں سے کیا بلکہ سبھی لوگوں سے کرتے تھے آپ نے لوگوں میں غلطیاں تلاش کرنے سے منع فرمایا