گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 53 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 53

۵۳ پانی دیا گیا پانی پی کر اس نے کسان سے کہا تمہارا پانی بہت صاف ٹھنڈا اور تازگی بخش ہے میں نے سنا ہے کہ لوگ میل ہا میل سے یہ پانی پینے کو آتے ہیں کیا یہ وہی کنواں نہیں ہے جو سال میں کچھ مہینہ پانی دیتا تھا اور وہ بھی اچھا نہیں ہو تا تھا ؟ ؟ کسان نے جواب دیا ہاں تمہاری بات ٹھیک ہے بات یہ ہے کہ کنویں میں لکڑیاں بہت گرتی تھیں پتے بھی گرتے تھے اور چیز میں بھی اسمیں گرتی تھیں جسکے نتیجہ میں پانی بند ہو جاتا تھا جس سے پانی بد بو دار اور پرانا ہو جاتا تھا مگر میں نے یہ تمام رکاوٹیں دور کر دیں اس میں اب کوئی لکڑی نہیں ہے پتے بھی نہیں ہیں صرف تازہ فرحت بخش پانی اس کنویں سے نکلتا ہے جو تم نے ابھی پیا ہے میرے پیارے بھائیو۔اس کنویں کی طرح دل کی طہارت بھی لازم ہے ہم اس کی روحانی آلودگی کی صفائی کی طرف توجہ دیں ان رکاوٹوں کو دور کریں جو صاف ستھرے آسمانی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں جب یہ رکاوٹ دور ہو جائے تو پھر مسلسل کڑی نگاہ رکھیں کہ اس کے بہاؤ کے تمام چینل کھلے رہیں اور ان میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔یہ رکاوٹیں کیا ہیں ؟ بہت ساری ہیں میں ان میں سے صرف دو کا ذکر کروں گا یعنی عداوت اور فخر۔یہ دونوں چیزیں ذهنی رویہ اور دل کو اسطرح داغوں سے بھر دیتی ہیں جس طرح چائے کے داغ چائیدانی کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں حصہ ان ذھنی رویوں کا ذہن میں ہونا بھی دل کو داغدار کر دیتا ہے جو پھر بعد میں صرف خدا سے محبت اور خدا کی ہمارے لئے محبت سے دور ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عشق الہی مذہب کا اتنا بنیادی اور لازمی حصہ جانا جاتا ہے کیونکہ اسکی روحانی تاثیر بہت زیادہ اور گہری ہے۔اللہ کی کتاب قرآن مجید میں ایک نصیحت آمیز دعا بیان ہوئی ہے لا تجعل فِي قُلُوبِنَا غِلا لِلذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَحِيم (سورة الحشر ۵۹ آیت نمبر ۱۱) ترجمہ۔اور ہمارے دلوں میں مومنوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجئے اے ہمارے رب آپ بڑے ہی شفیق اور بے انتہا کرم کرنے