گلدستہٴ خیال — Page 35
۳۵ عزتی کی موت مرتا ہے دوسروں کو خوش دیکھ کر۔دوسروں کی استعانت کر کے دراصل ہمیں خود مسرت اور راحت حاصل ہوتی ہے یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم دوسروں کو سچی خوشی دینے کے ذرائع فراہم کریں انگریزی کا محاورہ ہے کہ Like attracts like ہم جو کچھ دوسروں پر خرچ کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ لوٹ کر واپس ہمارے پاس پہنچتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو ہم اپنی مدد خود کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ نیکی کسی نہ کسی رنگ میں واپس آجاتی ہے حضرت عیسی علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔Give and thou shall receive ہمیں نیکی اس نیت سے نہیں کرنی چاہئے کہ اس کے عوض ہمیں بہتر معاوضہ ملیگا کیونکہ یہ عمل تو ایسا ہی ہے جیسے قوت ثقل کا آفاقی قانون اس کائینات میں کار فرما ہے روحانی مقنا طیسیت پیدا کرنے کا ایک راز یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ نیک کاموں کی تشہیر بلاوجہ نہ کی جائے ہاں اس سے اگر کسی کو فائدہ پہنچتا ہو تو اس کا بتلانا بری بات نہیں ہے پوشیدگی میں بھی زبر دست قوت مضمر ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی تمام توجہ اپنے ہی نیک کاموں پر مرکوز کر دیں حضرت میرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کی اہلیہ صاحبہ نے بیان کیا کہ آپ صدقہ و خیرات یوں دیتے کہ کسی کو اس کا علم نہ ہوتا تھا مستجیب الدعوات خدا ہمیں نیک کاموں میں مکمل عاجزی سے سبقت لیجانے کی توفیق عطا کرے۔آمین یا ارحم الر حمن