گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 11 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 11

11 بر عکس ہے جو لمحہ بھر میں اپنے نشانہ کی طرف روانہ ہو جاتی ہے۔قوت ارادی کو اپنا شکار مارنے کے لئے بعض دفعہ کئی ہفتے بلکہ کئی دن درکار ہوتے ہیں قوت ارادی لمحاتی یاوقتی فیصلہ کا نام نہیں ہے یہ نام ہے مسلسل فیصلے کرنیکا اور دماغ سے شکوک اور ابہام۔مایوسی اور نا کامی کے برے خیالات کے نکالنے کا۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بڑی شاہراہ پر بڑے تزک واحتشام سے روانہ ہوئے مگر اپنا عزم بر قرار نہ رکھنے کے باعث منزل سے پہلے ہی راستہ میں گر کر ناکام ہو گئے قوت ارادی بے خوف عزم پر پروان چڑھتی ہے جو کہ ہر مسلمان کا طرہ امتیاز ہونا چاہئے اس امتیازی وصف کا اعادہ قرآن کریم میں بار بار ہوا ہے۔ارشاد ربانی ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبَّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَلَ عَلَيْهِمْ المَلَائِكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَ نُوا وَابْشِرُو بِالجَنْتِه التي كُنتُم تُو عَدون حم السجده سورة ٤١۔آیت (٣٠) جن لوگوں نے (صمیم قلب سے ) اقرار کیا کہ ہمار ارب ایک ہے پھر انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا تو ان پر فرشتے نازل ہوں گے (جو انکو بشارت دیں گے کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رینج کرو کیونکہ ان کو جنت کے ملنے کی بشارت دی گئی ہے جسکا تم سے وعدہ کیا گیا تھا بَلَىٰ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَ يَا نُوكُم مِن فَورَهِم هَذَا يُمدِدِ كُم رَبِّكُم بِخَمْسَةِ أَلْفِ مِنَ المَلِئِكَةِ مُسَوَّمِيْن آل) عمران سورۃ ۳ آیت (۱۲۵) ہاں کیوں نہیں اگر ( تم لوگ) مستقل مزاج رہو گے اور متقی ہو گے اور وہ لوگ تم پر ایک دم آن پہنچیں گے تو تمہارا رب تمہاری نصرت فرمائیگا پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ جو ایک خاص وضع بنائے ہوئے ہوں گے وَلَنَبْلُوَ نَكُم حَتَّىٰ نَعْلَمَ المُجَهِدِ مِن مِنكُمْ وَالصَّابِرينَ وَ نَبلُوا أَخْبَارَكُم ( سورة ۴۷ - آیت ۳۲) اور ہم تمہاری ضرور آزمائش کریں گے تاہم ان لوگوں کو پہچان لیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور جو ثابت قدم ہیں تا تمہاری حالت کو جانچ سکیں قوت ارادی کے ذریعہ جو نمایاں کامیابیاں سر انجام دی جاسکتیں ہیں وہ بلا شبہ انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اولیس لیام میں مکہ کے رؤسا