گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 12 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 12

۱۲ نے ایک ہزار کی فوج کے ساتھ مسلمان فوج پر حملہ کیا جنگی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی مکہ والوں نے مومنوں کو نیست و نابود کرنا چاہا تامذہب اسلام اپنے آغاز میں ہی تباہ وبرباد ہو جائے جنگ کے شروع ہوتے ہی دو مسلمان چوں نے اپنے جرنیل سے پوچھا کہ ابو جہل کون شخص ہے ؟ ابو جہل بختر پنے میدان جنگ کے اس طرف کھڑا تھا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ان مسلمان بچوں کے دماغ میں صرف ایک ہی خیال اور صرف ایک مقصد پیش نظر تھا اور وہ یہ کہ اس شاتم رسول ﷺ کو ہلاک کر دیں جس نے ان کے پیارے رسول ہے اور مسلمانوں کا مکہ میں سالہا سال سے عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا انہوں نے ان لا تعداد مظالم کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا جو ابو جہل نے مسلمانوں پر ڈھائے تھے بعض مسلمانوں نے تو اس قدر اذیت اٹھائی کہ قریب تھا کہ وہ موت کا لقمہ بن جاتے ان بچوں کا ذہن اور دل یقین کامل سے لبریز تھا اور یہ تمنان میں شدید رنگ اختیار کر چکی تھی اور وہ اپنے ارادہ میں پکے نظر آتے تھے چنانچہ یہی ہو اوہ بجلی کی طرح لیکے دشمن کا کمانڈر جہاں میدان جنگ میں کھڑا تھا وہ اس طرف بڑھے وہ دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے اس تک پہنچے اس تگ و دو میں ایک بچہ کا بازو کٹ گیا مگر وہ بد دل نہ ہو اور لڑتے ہوئے اپنا راستہ بناتے ہوئے چلتا گیا نسحہ ابو جہل اس کے سامنے کھڑا تھا ایک ہی وار میں اس نے اسکو تہ تیغ کر دیا شدید زخموں کے باعث وہ دوبارہ کھڑا نہ ہو سکا ہم بھی اپنے مقصد میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔واقعی تقوی کے لباس کا مطمع نظر کتنا بیش قیمت اور لعل بے بہا ہے شاید اس وقت یہ مطمع نظر ہماری پہنچ سے باہر نظر آئے مگر اس کی طرف سنہری راستہ جاتا ہے اس جادہ پر چل کر ہم ایک روز منزل مقصود پر پہنچ کر آسمانی ٹرافی ضرور حاصل کر لیں گے وہ موتی بہت انوکھا اور نرالا ہے جس کا نام تقوی ہے۔وآخَرُ دَعونَا عَنِ الحَمدُ للهِ رَبِّ العَالَمِين