گلدستہٴ خیال — Page 10
پہنچنے کا عزم صمیم کر چکے ہوں ان کو اعلی درجہ کی نوید قرآن کریم میں سنائی گئی ہے۔ارشاد ہوتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنْهُم سُبُلَنَا - وَإِنَّ الله لَمَعَ المُحسنين ( العنكبوت سورة ٢٩ آیت ۷۰) اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انکو اپنے قرب اور جنت) کے راستے ضرور دکھائیں گے اور بے شک اللہ کریم کی رحمت ) خلوص والے لوگوں کے ساتھ ہے قوت ارادی کے ساتھ ساتھ مصمم ارادہ اور پختہ عزم کا ہونا بھی لازمی ہے اس کے ساتھ ایک اور چیز یہ ہے کہ انسان کا خیالی تصور یعنی ایجینیشن اور ذھن میں بنے والی تصویر قوت ارادی سے ہم آہنگی رکھتی ہو آئیے یہاں دو اشخاص کی مثال لیں جنہوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنیکا ارادہ کیا ہے۔پہلا شخص سگریٹ نوشی سے مزہ ملنی والی تصویر ذھن میں بنائے رکھتا ہے وہ سگار پینے سے جو مزہ آئیگا اس کی تصویر بناتا ہے اور پھر اس عادت کو چھوڑنے سے جو تکلیف ہو گی اس کے تصور سے وہ خوف کھاتا ہے یہاں قوت ارادی اور تصور میں اختلاف پیدا ہو گیا اور بعید نہیں کہ دوسری قوت پہلی پر غلبہ پالے دوسرا شخص سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے ہر تصور کو ذھن میں آنے ہی نہیں دیتا جب اسکو ایسا سوچنے میں وقت ہوتی ہے تو وہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کا سوچنا شروع کر دیتا ہے چہ جائیکہ وہ سگریٹ نوشی سے ملنی والی لذت کا سوچے۔پھر وہ ایسے لوگوں کی صحبت سے احتراز کرتا ہے جو سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔نیز وہ سگریٹ نوشی والے اشتہارات اور ایسی دوکانوں سے دور رہتا ہے جہاں سگریٹ فروخت ہوتے ہیں وہ اپنے ذھن میں صحت مند جسم اور دماغ کی تصویر بناتا ہے جو اسکے نتیجہ میں پیدا ہو گا۔اسکی ذهنی تصویر اسکی قوت ارادی سے ہم آہنگ ہوتی ہے لہذا وہ جلد فتح یاب ہو جاتا ہے قوت ارادی ایک ایسی قوت ہے جو نہ تو کمزور ہوتی ہے اور نہ ہی تھکتی ہے یہ صرف ہمیں آگے کو ہی دھکیلتی ہے حتی کہ یہ اپنا شکار مار لیتی ہے یہ ہندوق کی گولی کے پیچھے کار فرما قوت کے