گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 140 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 140

لیفٹینٹ صاحب نے مجھے اپنا پروگرام دے دیا جو میں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی خدمت میں ارسال کر دیا۔میں نے مفتی صاحب سے یہ درخواست بھی کی کہ وقت مقررہ پر کسی آدمی کو ریلوے اسٹیشن پر بھیج دیں آرچرڈ صاحب کے پروگرام کے مطابق ان کو صبح کے وقت قادیان پہنچا تھا مگر کسی غلط فہمی کی بناء پر پروگرام کے بر خلاف وہ بارہ گھنٹے قبل شام کی گاڑی سے قادیان پہنچ گئے اور اسٹیشن پر کسی خادم سے انہوں نے مفتی صاحب کے مکان کا پتہ دریافت کیا اس سعادت مند لڑکے نے آرچر ڈ صاحب کو اپنے ہمراہ لیا اور مفتی صاحب کے مکان پر پہنچا دیا۔آرچرڈ صاحب صرف ایک دن کیلئے قادیان گئے تھے مگر غالبا انہوں نے ایک ہفتہ قیام کیا اسکے بعد وہ خورجہ گئے اور پھر وہاں سے واپس برما اپنی کمپنی آرڈینینس فیلڈ پارک میں پہنچے اگلی صبح میں انہیں اردو پڑھانے گیا اور انکے سفر کے حالات دریافت کئے اور قادیان کے متعلق بھی۔انہوں نے بتایا کہ کسی طرح وہ غلطی سے پروگرام سے بارہ گھنٹے قبل قادیان پہنچ گئے اور ایک اجنبی لڑکے نے مفتی صاحب کے گھر تک انکی رہ نمائی کی یہ پہلا اثر میری طبیعت پر ہؤا کہ ہندوستان میں تو ایسا نہیں ہو تا کہ کسی نوجوان سے راستہ پوچھا جائے تو وہ پوچھنے والے کے ہمراہ جا کر مسافر کو اسکی منزل مقصود تک پہنچا دے دوسری بات یہ بتلائی کہ وہ ایک خیاط کی دوکان ( مرزا مهتاب بیگ مالک احمد یہ درزی خانہ پر گئے اور وہاں جاکر انہوں نے کپڑے کی قیمت دریافت کی جو دوکاندار نے درست بتائی ورنہ عام ہندوستانی دوکانداروں کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ وہ انگریزوں بالخصوص فوجیوں کو اشیاء کی قیمت بہت زیادہ بتاتے ہیں آرچرڈ صاحب نے دو تمھیوں کا کپڑا لیا اور سینے کیلئے دے دیا پھر درزی نے اپنے وعدہ کے مطابق کپڑا سی کر ٹھیک وقت پر دے دیا۔انہوں نے تعریفی الفاظ میں کہا کہ اس چیز نے میری طبیعت پر بہت