گلدستہٴ خیال — Page 16
احمد یہ نے اپنے بعض علمی شاہکار اسی قسم کے شور و شعب کے درمیان تحریر فرمائے جو آپ کے گرد و پیش جاری رہتا تھا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سخت سر درد میں مبتلا تھے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کیا کہ بچوں اور ملازموں کا شور حضور کی طبیعت پر بو جھل تو نہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں خود ان سے یہ کہنا پسند نہیں کرتا البتہ آپ نرمی سے ان سے خموشی کے لئے کہہ دیں۔اسی طرح ایک اور موقعہ پر آپ حضور سے پوچھا گیا کہ آپ گھر کے شور و غل میں کیسے علمی کام کر لیتے ہیں؟ تو فرمایا کہ میں تو اس طرف توجہ ہی نہیں کرتا لہذا مجھے یہ ناگوار نہیں گزرتا خلل اندازی بعض اوقات جب انسان کسی دلچسپ کام میں ہمہ تن مصروف ہو تا ہے تو بے وجہ کی خلل اندازی بہت بری محسوس ہوتی ہے۔حتی کہ ایک چہچہاتا ہوا پرندہ یا لکھی یا مچھر کی بھیجھناہٹ بھی اس قدر بری محسوس ہوتی ہے کہ انسان غصہ میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے اسی طرح نیند میں خلل بھی بعض لوگوں کو بہت ناگوار گزرتا ہے کہتے ہیں کہ حضرت احمد علیہ السلام جب کسی علمی کام میں محو ہوتے تھے تو چے آپ کے کام میں مخل ہوتے مثلاً دروازہ پر بار بار دستک دیتے اور دروازہ کھولنے کے لئے کہتے حضرت احمد بلا پس و پیش دروازہ کھول دیتے۔پھر ایک دفعہ آپ کے صاحبزادے حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد نے آپ کا ایک ضروری مسودہ جلا دیا تو آپ نے مسکر ا فرمایا شاید خدا تعالیٰ کو اس سے بہتر مضمون لکھنا منظور تھا یاوه گونی