گلدستہٴ خیال — Page 127
۱۲۷ اگر انسان وعدہ کو پورا نہ کر سکتا ہو اور اسکی وجہ غیر معمولی واقعہ یا حالات ہوں تو اس صورت میں دوسرے شخص کو فور او ضاحت کر دینی چاہئے اگر انسان وضاحت کرنی بھول جائے تو فورا معذرت کر دینی چاہئے بجائے اسکے کہ انسان جھوٹے بہانے تراشے کیونکہ ایسے معاملات میں راست گوئی بنیادی چیز ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ لوح محفوظ میں ارشاد فرماتے ہیں : وَالصَّادِقِينَ وَالصّادِقات ( سورة ۳۳ آیت ۳۶) راست گو مرد اور راست گو عورتیں غیر قانونی یا معصیت والے وعدہ کو توڑنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اللہ جل جلالہ سے وفا تمام وعدوں سے بالا تر ہے۔غلط وعدہ اوّل تو کرنا ہی نہیں چاہئے اور مضبوط کردار والا شخص غلط وعدہ کرتا ہی نہیں ہے ہاں یہ بھی یادر ہے کہ اگر دوسرا شخص وعدہ شکنی کرے تو پھر ہمیں اپنے وعدہ پر قائم رہنا ضروری نہیں ہے لوح محفوظ میں ارشاد ہوا ہے : وَإِمَّا تَخَا فَنَ مِن قَومِ حَيَا نَهُ فَا نَبِدَ إِلَيهِم عَلَى سَوَآءِ إِنَ اللَّهِ لَا يُحِبُّ الخَائِنِين ( سورۃ ۸ آیت (۵۹) اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت ( عہد شکنی کا ندیشہ ہو تو آپ وہ عہد ان کو اسی طرح واپس کر دیں کہ آپ اور وہ اس اطلاع میں برابر ہو جائیں بلا شبہ اللہ تعالٰی خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے وعدہ کو پوری سختی سے پورا کرنیکی کوشش کرنی چاہئے بلکہ اس چیز کو اپنا امتیازی نشان سمجھنا چاہئے ایک قابل اعتبار شخص جو اپنے وعدہ کا ایفاء کرتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں جیسے وقت پر ملاقات کے لئے پہنچتا ہے ایسے شخص کی ہمیشہ عزت کی جاتی ہے آیئے ہم قابل اعتبار بن کر اپنی شہرت کو چار چاند لگا ئیں تا لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ہمارا کیا ہوا و عدہ اتنا ہی پکا ہے جیسے پتھر کی لکیر۔۔