گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 126 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 126

۱۲۶ قول و قرار يَا أَيُّهَا الذِينَ آمَنُوا اَوقو بالعقود ( سورۃ ۵ آیت (۲) اے ایمان دارد اپنے وعدوں کو پورا کرو معتبر اور باوثوق ہونا انسان کے کردار کی بنیادی اینٹ ہونا چاہئے۔انسان چاہے کس قدر خوش خلق ہو اگر وہ اپنے وعدوں پر پورا نہ اتر تا ہو تو وہ دوسروں کی نگاہ میں عزت کھو دیتا ہے کسی سے کئے ہوئے وعدہ کو کبھی بھی مت توڑو چاہے یہ وعدہ کتنے ہی غیر وقعت معاملہ میں کیا گیا ہو بچے سے کیا ہوا وعدہ اگر تو ڑا دیا جائے تو اسکا اثر بچہ پر بہت برا ہوتا ہے بعض دفعہ مائیں بگڑے ہوئے غصیلے بچے کو وقتی طور پر خموش کرانے کے لئے وعدہ کر دیتی ہیں اسکا دماغ وقتی طور پر تو پر سکون ہو جاتا ہے اور اسکی توجہ بچوں کی دلچسپیوں میں بٹ جاتی ہے پھر ماں وعدہ شکنی کرتی ہے یا نا دانستہ طور پر فراموش کر دیتی ہے جب بچہ کو وعدہ یاد آتا ہے تو پھر وہ اپنی والدہ کے ٹوٹے ہوئے وعدے پر سر زنش کرتا ہے اس ضمن میں کسی نے کیا خوب کہا ہے : ٹوٹا ہؤا و عده روح پر بد نما دھبہ ہوتا ہے (ایڈ مینڈ شافٹ بری) جس طرح سپاہی احکامات کی پابندی کرتا ہے نیز ان پر پوری ذمہ داری کے ساتھ کار مند ہوتا ہے اسی طرح کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرنا چاہئے اللہ کریم کتاب مکنون میں فرماتے ہیں : إن الله يُحِبُّ المُتَّقِين ) سورة ۹ آيت ( الله ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔سید المرسلین خاتم النبین آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ وعدہ ایفائی ایمان کا حصہ ہے وعدہ ایک مقدس عہد ہے جس کو اس وقت تک نہیں کرنا چاہئے جب تک انسان اس کے ایفاء کر یکے بارہ میں پورا یقین نہ رکھتا ہو۔ٹوٹا ہوا وعدہ نہ صرف دوسرے شخص کو دکھ دیتا ہے اور بے آرام کرتا ہے بلکہ جس نے وعدہ کیا ہو تا اس کی شہرت بھی پاش پاش ہو جاتی ہے