گلدستہ — Page 69
49 کے روپے کو کہتے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔آپ ساری عمر ہی حضرت عثمان سے خوش رہے۔جب حضرت عثمان کی دوسری بیوی حضرت ام کلثوم بھی فوت ہو گئیں تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہو تیں تو میں ایک ایک کر کے سب کی حضرت عثمان سے شادی کر دیا۔وہ زمانہ بڑا پیارا تھا۔جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے۔سب مسلمان آپ سے بے حد پیار کرتے تھے۔مگر آدمی کو ایک نہ ایک دن تو خدا کے پاس جانا ہی ہوتا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے۔پھر حضرت ابو بکر خلیف ہے۔وہ بھی فوت ہو گئے تو حضرت عمر فاروق خلیفہ ہے۔اور حضرت عمر کو جب ایک ظالم نے زخمی کر دیا تو آپ نے چھ صحابہ کے نام لئے کہ ان میں سے کوئی خلیفہ چن لیں۔ان چھ ناموں میں ایک نام حضرت عثمان غنی کا بھی تھا اور اپنے ہی کو سب نے خلیفہ چن لیا۔اس وقت ہجرت کو چو بیس سال ہو چکے تھے۔حضرت عثمانی خلیفہ بنے تو بہت دُور دُور کے ملکوں تک کے لوگ مسلمان ہو چکے تھے۔حضرت عثمان کے زمانہ میں اور کئی ملکوں سے جنگیں ہوئیں۔اور بہت سے ملک فتح ہوئے پہلی دفعہ مسلمانوں نے سمندر کے راستے سفر کر کے ملک فتح کئے۔حضرت عثمان نے مسجد نبوی کو بہت بڑا بنوایا۔دور دور کے ملکوں کے لئے قرآن سیکھنے کا انتظام کیا۔لوگ اپنے اپنے طریقے سے پڑھتے۔حضرت عثمان نے سوچا۔اس طرح تو ہر ملک کا قرآن علیحدہ ہو جائے گا۔آپؐ نے اعلان کر دیا کہ جس کے پاس بھی قرآن کا جو بھی حصہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کا لکھا ہوا ہے۔انہیں دے دیا جائے۔چنانچہ سب نے دیدیا۔پھر آپ نے سارا قرآن ایک ہی طرح لکھوایا۔اس پر زیر زہر لگوائے