گلدستہ

by Other Authors

Page 70 of 127

گلدستہ — Page 70

اور آج تک قرآن مجید اُسی طرح پڑھا جاتا ہے۔چھ سال تک حضرت عثمان نے نے بڑے امن سے خلافت کی۔مگر جو دشمن ہوتے ہیں۔وہ امن خراب کرنے کے طریقے سوچتے رہتے ہیں۔ایک یہودی دشمن عبد اللہ بن سبا تھا۔بہت چالاک تھا۔لوگوں سے کہہ دیا کہ میں سلمان ہو گیا۔مگر دل سے دشمن تھا۔اُس نے طرح طرح کی غلط باتیں لوگوں میں مشہور کرنی شروع کر دیں۔وہ باتیں اس طرح سے کرتا کہ بعض لوگ اُسے سچا سمجھتے یہ سب لوگ اس کے بنائے ہوئے طریقہ پر کام کرنے لگے۔مدینہ میں جگہ جگہ بیٹھ جاتے اور حضرت عثمان کے خلاف جھوٹی باتیں کرتے نماز کے وقت مسجد نبوی میں جمع ہو جاتے اور ہر بات کان لگا کر سنتے کہ لوگ خلیفہ کو کیا بتاتے ہیں۔حضرت عثمان کو بہتر لگ رہا تھا۔مگر آپ اتنے بہادر تھے کہ نماز کے لئے مسجد میں تشریف لاتے رہے۔پھر آپ کے ساتھیوں نے آپ کو مسجد میں آنے سے منع کر دیا۔کچھ بہادر آپ کی حفاظت کے لئے جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا تم لوگ اپنی اپنی حفاظت کرد اور آپ خود قرآن پڑھنے لگے ان دشمنوں نے حضرت ابو بکر کے ایک بیٹے محمد بین ابو بکر کو بھی ساتھ ملا لیا ہوا تھا وہ اندر آیا اور آپ کی داڑھی پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان نے آنکھ اُٹھا کہ اس کی طرف دیکھا اور فرمایا۔میرے بھائی کے بیٹے اگر تیرا باپ زندہ ہوتا تو تجھے ایسا نہ کرنے دیتا۔وہ شرمندہ ہو کر واپس چلا گیا اس کے بعد ایک اور شخص آگے بڑھا اور ایک لوہے کا ڈنڈا زور سے سر پہ مارا۔قرآن پاک جو آپ پڑھ رہے تھے۔اس کو پاؤں سے ٹھوکر ماری۔ایک اور دشمن نے تلوار سے حملہ کیا۔آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔آپ کی بودی بچانے آئیں۔تو اُن کی انگلیاں کٹ گئیں۔پھر ایک شخص نے آپ کا گل گھونٹ کر آپ جیسے بہادر نیک غنی کو جان سے مار دیا۔آپ ۸۲ سال کی عمر میں شہید ہوئے۔