گلدستہ — Page 65
۶۵ تعلق رکھتا تھا جس میں بعد میں اسلام کو چاہنے والے پیدا ہوئے۔اور تقریباً سو سال تک حکمران ہے۔صرف مار پیٹ ہی نہیں۔کئی طرح سے تنگ کیا جاتا۔ابھی زیادہ لوگ اسلام نہیں لائے تھے مسلمان شام کو ملتے۔تو ہر ایک ان فلموں کی داستان سناتا جوان پر کئے جاتے تھے۔اتنی شدید تکلیف دیکھ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر چلے جانا چاہیئے۔آپ کو اللہ تعالی کا پیغام یعنی اسلام سکھاتے ہوئے۔پانچ سال ہو چکے تھے۔مگر اسلام قبول کرنے والے بہت کم تھے اور جو اسلام لائے تھے وہ سخت مشکلات میں تھے۔حضرت عثمان جیسے پیارے انسان کو اللہ پاک نے ایک بہت بڑی نعمت دی۔اُن کی شادی ایک شہزادی سے ہو گئی۔یہ شہزادی ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی حضرت رقیہ تھیں۔حضرت عثمان بہت خوش تھے۔مگر تکلیف بہت زیادہ ہوگئی۔مصائب بڑھ گئے تھے۔ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وستم نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا۔آپ نے اپنی انگلی سے مغرب کی طرف اشارہ کیا۔اور فرمایا کہ اس طرف ایک ملک ہے جس میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔تم وہاں چلے جاؤ۔اس ملک کا نام حیشہ تھا۔ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کو ہجرت کہتے ہیں۔حضور کے ساتھیوں کا یہ سفر ہجرت حبشہ کہلایا۔کفار کوجب علم ہوا کہ سلمان مکہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔تو انہوں نے اُن کا پیچھا کیا۔مگر پکڑ نہ سکے۔چونکہ یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہو کہ حبشہ چلے گئے تھے۔حضرت عثمان اس ہجرت میں اپنا مکان اپنا رویہ پیسہ اپنے اونٹ بکریاں سب کچھ مکہ میں چھوڑ گئے۔اس طرح صرف خدا تعالی کو ایک ماننے کے بعد۔اپنے رشتہ داروں اور سامان وغیرہ سب کچھ چھوڑ کہ اپنا ملک چھوڑ کر حبشہ جانا پڑا۔آپ کے ساتھ گیارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت عثمان مکہ واپس آگئے۔مکہ میں پوری طرح حالات ٹھیک