گلدستہ — Page 64
۶۴ عثمان غور سے سنتے رہے پھر بے تابی سے فرمایا مجھے ابھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو میں اُن کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جاؤں حضرت ابو بگر یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔کیونکہ اس وقت تک ان کے دوستوں میں سے کسی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔جلدی جلدی چلنے کی تیاری کرنے لگے۔مگر کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے پیارے نبی حین کو ملنے کی تیاری ہو رہی تھی۔خود تشریف لارہے ہیں۔آپ نے حضرت عثمان کو دیکھ کر فرمایا ! عثمان میں تمہارے سامنے جونت کو پیش کرتا ہوں۔چاہو تو اسے قبول کر لو۔میں خدا کا رسول ہوں۔اور اللہ تعالے نے مجھے تم لوگوں کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے بھیجا ہے۔میرا ساتھ دو گے تو اس میں تمہارا فائدہ ہے۔اگر انکار کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔۔۔حضرت عثمان فوراً بولے۔حضور آپ کی بتائی ہوئی جنت کی مجھے بہت خواہش ہے مجھے اسلام کا کلمہ پڑھائیے اور ارکان اسلام سکھائیے۔میں ایمان لاتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔آپ کے خاندان میں جب سب کو علم ہوا کہ جس شخص کو پورا شہر غلط کہہ رہا ہے حضرت عثمانی نے ان کو مان لیا ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے۔ان کے چچا حکم بن ابی عاصل کو پتہ چلا تو بڑے غصے میں آئے۔اور اتنے بڑے آدمی کو پکڑ کر ایک درخت کے ساتھ کھڑا کر کے رسیوں سے خوب مضبوطی سے باندھ دیا۔اور پھر ڈنڈے سے مارنے لگے۔مارتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے خدا کو نہ مانو۔مگر مار پڑنے سے خدا کی محبت اور زیادہ ہوئی گئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا نور۔اُن کا پیارا پیارا باتیں کرنے کا انداز۔سب کچھ یاد آنے لگا اور اور مارا اور چوٹ کی تکلیف کم ہوتی گئی۔درخت سے بندھا مار کھانے والا یہ آدمی قریش خاندان کی بنی امیہ شاخ سے