گلدستہ — Page 63
۶۳ مکان کی شکل میں لگا لئے جاتے تھے۔اونٹ بھی آرام کر لیتے اور اونٹوں پر بیٹھنے والے انسان بھی۔اگلے دن صبح صبح ایک آدمی گھنٹی بجاتا جس کا مطلب ہوتا کہ اب آگے جانا ہے۔جلدی جلدی تیار ہو جاؤ۔حضرت عثمان جن کی باتیں آپ کو بتائی جارہی ہیں لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔مگر زیادہ توجہ اپنے والد کے ساتھ تجارت کی طرف دیتے تھے۔آپ فلہ یعنی گندم وغیرہ کی تجارت کرتے تھے۔آپ بہت ایماندار اور محنتی تھے۔اللہ پاک محنت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اس لئے آپ کو بہت فائدہ ملتا۔آپ کے پاس بہت دولت مجمع ہوگئی۔اور سب لوگ جانتے تھے کہ حضرت عثمان تو بڑے امیر آدمی ہیں۔امیر تو تھے۔مگر رحم دل بھی تھے۔غریبوں کی بہت مدد کرتے تھے۔اسلام آنے سے پہلے عرب کے لوگوں میں بعض عادتیں بہت خراب تھیں۔جو کھا تے شراب پینے اور جوا کھیلنے میں ضائع کر دیتے۔ہوا ایسی کھیل کو کہتے ہیں۔جس میں شرط رکھی جائے کہ جیتنے والے کو انعام ملے گا اور ہارنے والے کے پیسے واپس نہیں کئے جائیں گے۔ایسی اور بھی کئی خراب عادتیں تھیں مگر حضرت عثمان نہ شراب پیتے تھے اور نہ جوا کھیلتے تھے۔نہ ہی وقت خراب کرنے والی دوسری باتیں کرتے تھے۔اس طرح آپ کا مال ضائع نہ ہوتا۔جب آپ کی عمر ۳۳ سال کی ہوئی۔تو ایک دن اُن کے دوست حضرت ابو بکر نے انہیں ایک طرف لے جا کر چپکے چپکے سے ایک بالکل نئی بات بتائی۔حضرت ابو کر نے بتایا کہ ہم باتیں کیا کرتے تھے تا کہ پتھر کے بت خدا نہیں ہو سکتے۔مگر ہمیں معلوم نہیں تھا کہ خدا کون ہے۔اؤ میں تمہیں تناؤں مجھے میرے دوست حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ یہ سب چھوٹے پتھر کے بنے ہوئے ثبت ہمیں کچھ نہیں دے سکتے۔خدا ایک ہے جو سب کا خالق اور مالک ہے۔اُس نے محمد صلی اللہ علیہ سلم کو پیغام دیا ہے۔کہ وہ سب دنیا کو بتا دیں۔اور میں نے مان لیا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم سچ کہتے ہیں۔اُن کے نئے دین کا نام اسلام ہے حضرت