گلدستہ — Page 62
حضرت عثمان غنی نی مکہ کی گلیوں میں کھیل کر ایک ساتھ جوان ہونے والے دوستوں میں حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ حضرت عثمان کا نام بھی آتا ہے۔مکہ میں رواج تھا کہ باپ کا نام اپنے نام کے ساتھ شامل کرتے تھے حضرت عثمان کے باپ کا نام عفان تھا اس لئے آپنے عثمان بن عفان کے نام سے مشہور تھے۔آپ نے عمر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ برس چھوٹے تھے۔آپ بھی قبیلہ قریش سے تھے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اس زمانہ میں تعلیم کا رواج اس طرح نہیں تھا۔جیسے آج کل سب بچے سکول جاتے ہیں۔بلکہ علماء کے گھروں پر جاکر تعلیم حاصل کی جاتی تھی۔حضرت عثمان نے بھی تعلیم حاصل کی۔عرب قبیلے زیادہ تر گھوم پھر کر روزی کمانے کے عادی تھے۔اس لئے زیادہ توجہ تجارت کی طرف ہوتی تھی۔تجارت کا مطلب ہے کہ ایک جگہ جہاں سے سستی چیزیں میں خرید کر دوسری جگہ جا کہ جب دوسرے شہر میں کچھ زیادہ قیمت ملے تو بیچ دیں اور وہاں سے وہ چیزیں جو سستی میں خرید کرلے آئیں اور اپنے شہر میں اُن کی ضرورت ہو اگر بیچ دیں اس طرح بہت فائدہ ہوتا۔اکثر لوگ یہی کام کرتے تھے۔آج کل جیسی گاڑیاں کاریں تو اس زمانہ میں نہیں تھیں ہوائی جہاز بھی نہیں تھے۔اونٹوں پر سامان لاد کر لے جاتے۔سارا دن سفر کرتے۔پھر کسی جگہ جہاں رات آتی۔وہیں پر رات بسر کر لیتے۔اُن کے پاس تجھے ہوتے تھے جو بہت جلد ایک چھوٹے سے