مرزا غلام قادر احمد — Page 237
237 دفعہ آنکھ کھولتا ہے اسے سکتہ تو نہیں؟ وہ ڈاکٹر ہے اسے پتہ تھا کہ وہ کتنا زخمی تھا اس نے کہا خالہ سکتہ بالکل نہیں ہے وہم نہ کریں۔شاید میرا بچہ آخری بار اپنی ماں کو دیکھنا چاہتا تھا۔شاید وہ بھی مجھے جزاک اللہ کہنا چاہتا تھا۔خدا نے اسے بتایا ہو گا کہ تمہاری ماں نے تمہارے وقف حتی کہ قربانی کے لئے بھی دُعائیں کی تھیں۔وہ آج روضرور رہی ہے۔لیکن آنسوؤں کے پیچھے قبولیت دعا کے نشان ہیں۔شکر کے جذبے ہیں۔میں بے قرار ہوں۔اس کے لئے۔مگر اس بے قراری میں اک قرار ہے۔قادر میرے بچے! تم آئے بھی صرف اور صرف خدا کی مرضی سے تھے اور گئے بھی خدا کی رضا پر ہو۔اور ہم اس کی رضا پر راضی ہیں۔دیانتداری چھوٹے چھوٹے واقعات ہر وقت میری نظروں کے سامنے گھومتے ہیں اس نے خدمت دین کے ساتھ ماں باپ کی خدمت کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔وہ اتنا دیانت دار تھا کہ ہم نے کبھی نہیں پوچھا قادر کتنی آمد ہوئی ہے۔کیا حساب ہے بلکہ یہ فکر رہتی کہ جو حصہ اس کا رکھا ہے وہ لیتا بھی ہے یا نہیں۔جب جماعت کی طرف سے لندن گیا تو میں اور نصرت چھوڑنے گئے۔روانہ ہونے سے پہلے کہنے لگا امی اس گاڑی میں آپ نے کوئی کام نہیں کرنا۔یہ انجمن کی گاڑی ہے اور مجھے چھوڑنے آئی ہے۔میں نے کہا کام کیا کرنا ہے۔اگر راستے میں پھل کی دُکان آئے تو وہ بھی نہ لوں؟ اس کا اصرار تھا۔اس گاڑی میں کوئی کام نہ کریں۔: اسی طرح ساتویں کلاس ربوہ میں کر کے ایبٹ آباد آ گیا چھوٹی عمر تھی۔چھٹیوں میں آیا تو مجھے ایک شار پر دکھایا کہ میں نے جنرل اسٹور ނ