مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 236 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 236

236 کر دیا بعض حالات کی وجہ سے چھڑوایا تب بھی احتجاج نہیں کیا کہ پڑھائی بھی ضائع ہوئی اور حفظ نہ کر سکا احتجاج اس کی سرشت میں ہی نہیں تھا۔فرمانبرداری ہی فرمانبرداری تھی۔یہ شاید اس کا پہلا اور آخری احتجاج تھا جو وہ ان بدروحوں کے ساتھ جانے پر کر رہا تھا۔بہادری سے لڑا۔زخموں سے چور چورلڑا۔خدا کی نصرت اس کے ساتھ تھی ورنہ اسلحہ سے بھری گاڑی چار پہلوان، خنجر ، چھریاں، انہونی بات لگتی ہے۔مگر اس نے جماعت کو فتنے سے بچانا تھا۔اس شان سے جان دی۔تنہا نہتا اُدھر چار ہتھیار سے لیس۔جرات مند بیٹا۔میں شکر کرتی ہوں اس دن بچے ساتھ نہ تھے۔شکر کرتی ہوں وہ ظالم تمام مواقع مہیا ہونے کے باوجود ساتھ نہ لے جاسکے۔قربانی تو اس کا مقدر تھی۔مگر جو ہوا سامنے ہوا۔میں نے اپنے بیٹے کو جزاک اللہ، قادر جزاک اللہ کہہ کر رخصت کیا۔تم شان سے جئے اور شان سے جان دی۔اسی کمرے سے رخصت ہوا جہاں سے دولہا بن کر نکلا تھا۔ارمانوں سے دُلہن لایا تھا۔سفید پگڑی ، سفید اچکن میں شہزادہ لگ رہا تھا۔آج اسی کمرے میں سفید کپڑوں میں لپٹا چہرے پر مسکراہٹ سجائے ، خاموش لیٹا تھا۔میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد کمرے میں جاتی تھی۔اسے پیار کرتی۔قادر بچے ! بچوں کو یاد نہ کرنا“ میں بچوں کا خیال رکھوں گی۔زیادہ دیر ٹھنڈ میں بیٹھنا مشکل تھا۔ایک عجیب سا تصرف الہی تھا مجھے اگر کوئی کہے حلفیہ بیان دوں میں بلا تر ژد حلفیہ بیان دوں گی کہ جب میں آتی تھی پیار کرتی تھی وہ ہلکی سی آنکھ کھولتا تھا۔میں نے اپنے بھانجے بھائی مبارک کے بیٹے کو جو ڈاکٹر ہے۔بُلایا کہ یہ ہر